Express News:
2026-07-24@07:57:40 GMT

ایک بار پھر رب کعبہ کے حضور

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

13 سال کے طویل عرصے کے بعد تیسری بار عمرے کی سعادت حاصل ہوئی تو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ شہروںکو بہت تبدیل ہوا پایا۔ ٹریول ایجنٹس اس مقدس سفر کو بھی اپنے مالی مفاد کے لیے تو کمائی کا ذریعہ بناتے ہی رہے ہیں مگر ویزوں کی بندش کے باعث انھوں نے جس 15 روزہ پیکیج کا اعلان کیا وہ محض 13 روز کا تھا اور پورے دو روز سفر کے باعث عمرہ عازمین کو وہاں کے ہوٹلوں میں 13 روز ٹھہرا کر دو روز کا کرایہ بچا لیا جاتا ہے۔

ویزوں کی بندش کے باعث عمرہ عازمین کا رش بے حد بڑھا ہوا تھا۔ دوپہر کی سخت گرمی اور رات کے بہتر موسم میں بھی رش کا وہی عالم تھا اور دنیا بھر سے طویل سفر کرکے مکہ مکرمہ پہنچنے والے موسم کو نظرانداز کرکے طواف اور بعد میں صفا و مرویٰ کی سعی میں مصروف تھے اور رش میں خواتین و مردوں، بزرگوں، معذوروں اور کم عمر بچے ہوں یا نوجوان سب عمرے کے فرائض کی ادائیگی میں مگن تھے اور رش بھی کسی پر اثرانداز نہیں تھا ۔

مکہ و مدینہ میں عازمین کے تقریباً سب ہی کے ہاتھوں میں موبائل فونز تھے ۔اس معاملے میں دیگر کے ساتھ بزرگ خواتین و مرد بھی پیچھے نہیں تھے اور طواف و سعی کے چکروں میں موبائل فونز آن کرکے اپنے عزیزوں کو کمنٹری کے ذریعے اونچی آواز سے حال احوال دیا جاتا رہا ۔

موبائل فونز کا استعمال اس طرح ہوتا رہا کہ سامنے سے آنے والوں سے ٹکرایا جاتا رہا اور سب کچھ موبائل میں محفوظ ہوتا رہا۔ پہلے عمرے کی ادائیگی کے بعد پیکیج کے تحت دو بار مکہ شریف اور ایک بار مدینہ منورہ سے باہر تاریخی زیارتیں دیکھنے کا موقعہ ملا۔ زیارتوں کی تفصیلات بتانے والوں کا تقرر ٹریولز ایجنٹس اپنے مقررہ افراد کے ذریعے کرتے ہیں۔ ہمارے گروپ کے عازمین کو دو حصوں میں تقسیم کرکے زیارتیں کرائی گئیں اور ہمارے گروپ لیڈر قاری شبیر نے خود تاریخی مقامات اور مساجد میں جا کر عازمین کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ طائف کے پہلی بار وزٹ میں ایک ساڑھے چار ہزار سال پرانی نہر پر لے جایا گیا۔ مکہ سے آتے ہوئے دونوں اطراف موجود پہاڑوں کی تفصیلات اور واپسی میں متعدد تاریخی مساجد میں ادائیگی نماز کا موقعہ ملا۔ طائف روانگی سے قبل بتا دیا گیا تھا کہ عازمین اپنے ساتھ احرام ضرور رکھیں کیونکہ طائف سے واپسی پر عمرہ لازمی ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک عمرے کی سعادت حاصل ہو گئی۔

18 سال سے مکہ میں مقیم قاری شبیر بسوں میں لگے اسپیکر کے ذریعے زیارتوں پر روانگی سے قبل سفر کی دعائیں پڑھاتے تھے ۔قاری شبیر سب سے مختلف گائیڈ تھے جنھوں نے پہلی بار مکہ شہر سے باہر کے تاریخی مقامات و مساجد میں لے جا کر معلومات فراہم کیں۔ جبل نور سے قبل میدان عرفات میں حجاج کے لیے جو آرام دہ خیمے لگتے ہیں، وہ دکھائے جن سے حج کے بعد ترپال اتار کر محفوظ کر لیے جاتے ہیں۔ وہاں جنرل ضیا الحق شہید کے دور میں خصوصی طور پر لگوائے گئے ہزاروں درخت اب قدآور ہو چکے ہیں اور حجاج کو سایہ فراہم کر رہے ہیں۔عازمین کو مسجد نمرہ دکھائی گئی جو حج کا خطبہ دینے کے لیے صرف ایک بار کھلتی ہے جس کی وجہ سے لوگ باہر ہی نفل ادا کر لیتے ہیں۔ مکہ کی بیرونی زیارتوں میں ہمیں تمام تاریخی مقامات اور مساجد دکھائی گئیں اور واپسی میں مسجد جن اور پہاڑوں کی تفصیلات سے بھی عازمین کو آغاہی فراہم کی گئی۔

15 روز مکہ میں قیام کے بعد 5 روز کے لیے مدینہ منورہ صبح 11 بجے روانگی ہوئی اور عصر کے بعد مدینہ پہنچے جہاں بھی ہوٹلوں میں مکہ کی طرح رش تھا مگر ہمیں ہمارا بک کردہ روم صفائی کے بعد مل گیا اور رات کو مسجد نبوی میں نماز عشا کی ادائیگی کی سعادت حاصل ہوئی۔

مکہ سے مدینہ آنے والے راستے کے دونوں طرف مختلف رنگوں کے پہاڑوں کی اپنی ہی خوبصورتی اور ہیبت ہے۔ مدینہ میں مسجد نبوی کے خوبصورت مینار پہلے دور سے نظر آ جایا کرتے تھے مگر اب اونچی اونچی عمارتیں بن جانے سے وہ مینار اب قریب جا کر ہی نظر آتے ہیں اور مدینہ کی بات ہی الگ ہے جس کا ماحول مکہ سے مختلف ہے۔

مدینہ کی زیارتیں دکھانے کے لیے عازمین کو لے جایا گیا اور تاریخی مساجد کی زیارتیں کرائی گئیں اور نفل ادائیگی کا موقعہ ملا اور ہر جگہ ہی عازمین کا رش موجود تھا۔ وہ تاریخی مسجد قبلتین بھی دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی جہاں ہمارے نبی پاکؐ پہلے قبلہ اول کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاتے تھے اور آپ جب نماز پڑھا رہے تھے تو حکم آیا اور حضور نے دوران نماز خانہ کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل کر لیا جس پر صحابہ نے بھی حضورؐ کی تقلید کی تھی۔ اس مسجد میں نفل بھی ادا کیے جاتے ہیں۔

ایک تاریخی مسجد میں دو رکعت نماز نفل کی ادائیگی پر قبول عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ عازمین کو قاری شبیر نے بتایا کہ صرف دو نفل ادا کرنے پر یہ ثواب ملتا ہے، زیادہ نفل پڑھنے سے بھی وہی ثواب برقرار رہتا ہے۔ مدینہ کی زیارتیں پہلی بار دیکھنے کا موقعہ ملا اور مکہ روانگی سے قبل مدینہ کے ہوٹل سے ہی احرام پہننے کا مشورہ دیا گیا کیونکہ مقررہ مسجد میں رش میں احرام تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مدینہ سے واپسی پر مکہ میں 3 روز قیام اور تیسرا عمرہ ادا کرنا تھا جو رات کو ادا کیا تو رش اور زیادہ ملا۔ اس بار نماز جمعہ کے لیے کئی گھنٹے قبل خانہ کعبہ پہنچنے پر حرم میں جمعہ نماز ادا کرنے کا موقعہ مل گیا، اس طرح پہلا جمعہ مکہ میں اور دوسرا مدینہ میں پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

مسجد نبوی کے صحن میں عازمین میں مختلف اشیا کی تقسیم زیادہ ہوتی ہے جب کہ مکہ میں پانی کی بوتلوں اور کھجوروں کی تقسیم زیادہ تھی اور دونوں ہی جگہ مخیر حضرات دل کھول کر تبرک تقسیم کرتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پی آئی اے کا جہاز جدہ میں وقت پر موجود تھا اور جدہ آتے ہی تمام ضروریات سے فراغت کے بعد جہاز میں پہنچا دیا گیا جس نے تھوڑی سی تاخیر کے بعد کراچی کے لیے اڑان بھری اور چار گھنٹے کے مقررہ وقت میں کراچی پہنچا دیا گیا مگر مکہ و مدینہ میں گزارے 13 روز اب بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی سعادت حاصل ہو کا موقعہ ملا کی ادائیگی عازمین کو دیا گیا تھے اور مکہ میں کے لیے کے بعد

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی