کراچی:

سندھ حکومت نے کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی اسپیڈ ٹرین کے لیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل کردی۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین کو حکومت سندھ کے اہم اہداف قرار دیتے ہوئے ان منصوبوں کے لیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

کراچی میں عالمی بینک کے وفد نے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی، جس میں صوبے بھر میں اربن موبلٹی کی بہتری، ٹرانسپورٹ سسٹم کی مضبوطی اور مختلف ماڈلز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے اور کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبے سندھ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے اور حکومت سندھ چاہتی ہے کہ عالمی بینک ان منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرے۔

ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے عالمی بینک کے تعاون سے جاری یلو لائن بی آر ٹی منصوبے پر وفد کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یلو لائن کے اہم حصے تاج حیدر پل کا ایک حصہ مکمل ہو چکا ہے جب کہ دوسرے حصے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ یلو لائن بی آر ٹی سے متعلق فیصلے عوام اور منصوبے کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے عالمی بینک کے مزید اور بروقت تعاون کی ضرورت ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ عوام کو سستی اور تیز ترین سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت سندھ کا واضح عزم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ سال وفاقی حکومت کی جانب سے گرین لائن بی آر ٹی سندھ حکومت کے حوالے کی گئی ہے اور حکومت سندھ کے زیر انتظام اس کی یومیہ رائڈرشپ میں 33 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں اربن موبلٹی کے لیے مزید بسوں کی ضرورت ہے اور اس شعبے میں عالمی بینک کی معاونت اہم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف یلو لائن بی آر ٹی بلکہ مستقبل کے ٹرانسپورٹ منصوبوں میں بھی عالمی بینک کا تعاون درکار ہے۔

عالمی بینک کے وفد نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ ریلوے کے منصوبوں میں بھی ان کا کردار چاہتے ہیں۔ وفد نے کہا کہ کراچی خطے کا اہم شہر ہے اور اسے سینٹرل ایشیا تک رسائی کے لیے کلیدی مقام حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی اسپیڈ ٹرین لیے عالمی بینک عالمی بینک کے لائن بی آر ٹی حکومت سندھ تعاون کی یلو لائن سندھ کے کے لیے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی