data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251126-08-30
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں ای چالان کے خلاف جماعت اسلامی،مرکزی مسلم لیگ، راشد رضوی ایڈووکیٹ اور دیگر کی درخواستوں کی سماعت ،عدالت نے ای چالان فوری روکنے کی زبانی استدعا مسترد کردی۔ درخواستوں گزاروں کی جانب سے ای چالان پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی گئی تھی جس پر عدالت نے ای چالان فوری روکنے کی زبانی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم فوری طور پر حکم امتناع جاری نہیں کرسکتے، فریقین کے جواب آنے دیں پھر کیس چلا کر فیصلہ کریں گے، درخواست گزار کاکہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ امتیازی سلوک ہورہا ہے سب سے زیادہ چالان کراچی سے وصول کیے جارہے ہیں، عدالت کاکہنا تھا کہ کراچی حالات کے مختلف ہیں دوسرے شہروں سے موازنہ کیسے کرسکتے ہیں، ٹریفک پولیس محکمہ داخلہ اور دیگر نے جواب جمع کرانے کی مہلت طلب کی جس پر عدالت نے درخواست گزاروں کو درخواست کی نقول فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کردی۔ درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ ، آئی جی سندھ ، ڈی آئی جی ٹریفک ،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر جنرل نادرا بھی فریق بنایا گیا ہے ، درخواست گزار کاکہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عاید کیے گئے جرمانے انتہائی زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں، ملک کے دیگر حصوں بالخصوص لاہور میں جس خلاف ورزی پر جرمانہ 200روپے ہے، کراچی میں 5ہزار روپے ہے، حکومت سندھ نے جولائی 2025سے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 40ہزار روپے مقرر کی ہے، اس تنخواہ میں گروسری، یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی تعلیم و دیگر ضروریات ہی پوری نہیں ہوتیں،ٹریفک قوانین کی یہ نام نہاد اصلاحات صوبے کے دوسرے بڑے شہروں میں نافذ نہیں کی گئیں،لاہور کے مزدور کی آمدنی کا۔5 فیصد اور کراچی کے مزدور کی آمدنی کا ساڑھے فیصد جرمانہ ہے،فریقین کو ہدایت کی جائے کہ وہ عدالت کو ان جرمانوں کے منصفانہ ہونے کے بارے میں مطمئن کریں،عاید کیے گئے جرمانوں کے عمل کو فوری طور معطل کیا جائے،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماء ندیم اعوان نے سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ٹریفک قوانین کے خلاف عاید کردہ جرمانے منصفانہ نہیں، ای چالان کے نام پر شہریوں سے ای بھتہ وصول کیا جارہا ہے ،شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ، پہلے سہولت فراہم کی جائے، کروڑوں کے چالان کرنے کے بعد چند مقامات پر اسپیڈ سائن لگائے گئے،چالان سے مسئلہ نہیں پہلے عوام کو سہولیات تو فراہم کی جائیں ،مرکزی مسلم لیگ عوام کا مقدمہ عدالت میں لائی ہے، بنیادی سہولیات ملنے تک ای چالان روکے جائیں ۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا