پنجاب وائلڈ لائف نے صوبے بھر میں تیتر کے شکار کے لیے کے سیزن کا اعلان کردیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تیتر کا شکار صرف اتوار کے دن ہی مخصوص علاقوں اور تاریخوں میں کیا جا سکے گا۔مخصوص علاقوں کے علاوہ تیترکے شکار کی فیس ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ شکار کے لئے سپیشل اور عام ہنٹنگ گراؤنڈز، کمیونٹیز کنرروینسیز، پبلک اورپرائیویٹ وائلڈلائف ریزروز  بنائے گئے ہیں۔

پنجاب وائلڈلائف رینجر نے ترمیم شدہ وائلڈلائف ایکٹ کے تحت  چکوال، تلہ گنگ، جہلم اورخوشاب میں مختلف علاقوں کو ہنٹنگ گراؤنڈز کا درجہ دیا ہے ۔مجموعی طور پر 125 سپیشل ہنٹنگ گراؤنڈز تشکیل دی گئی ہیں جہاں تیتر کے شکار کے لئے پرمٹ نیلامی کے ذریعے حاصل کرنا ہوگا۔

ڈپٹی چیف وائلڈلائف رینجر زاہد علی نے بتایا سپیشل ہنٹنگ گراؤنڈ میں تیترکے شکار کے لئے پرمٹ کی نیلامی 8 دسمبر 2025 کو ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر سالٹ رینج کے دفتر کلر کہار میں منعقد ہوگی۔

اگر اجازت نامے دستیاب رہے تو اگلے تین دنوں تک نیلامی جاری رہ سکے گی۔ ان مخصوص گراؤنڈز میں شکار کا سیزن 14 دسمبر 2025 سے شروع ہو کر 15 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ شکارسیزن کے اعلان سے قبل ان علاقوں میں سروے کیا گیا ہے اورسروے کے بنیاد پر ہی شکاریوں کو  صرف مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی جائیگی۔

وائلڈلائف حکام کے مطابق سپیشل وائلڈلائف گراؤنڈز کے علاوہ 36 اوپن ہنٹنگ گراونڈز دکلیئر کی گئی ہیں جہاں شکار کا سیزن یکم دسمبر سے شروع ہوگا اور 15 فروری 2026 تک جاری رہیگا۔ ان اضلاع اور تحصیلوں کے بعض علاقوں میں شکار پرپابندی ہوگی۔

اٹک کے علاقہ جنڈ جبکہ ڈسٹرکٹ مری میں مکمل پابندی ہوگی۔اس کے علاوہ جھنگ کے علاقہ 18 ہزاری، بہاولنگر، بہاولپور اوررحیم یار خان کے چولستان ڈیزرٹ ایریا منظفرگڑھ کے تھل ڈیزرٹ اور راجن پور کی تحصیل روجھان میں شکار پرپابندی ہوگی جبکہ باقی تمام اضلاع میں شکار کھیلا جاسکے گا۔ان علاقوں میں شکار کے لیے "وائلڈ لائف پاس" سسٹم کے ذریعے اجازت نامے حاصل کیے جا سکیں گے۔

اسسٹنٹ چیف وائلڈلائف رینجرہیڈکوارٹر  عاصم بلال کے مطابق تیسرے درجے میں کمیونٹی بیسڈ کنزروینسیز ہیں، جن میں چکوال میں واقع منارہ سیٹھی حدیقۃالواطین اور میارل برادرز شامل ہیں۔

ان میں شکار کے لیے ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب سے خصوصی اجازت نامے حاصل کرنے ہوں گے۔

چوتھے درجے میں پبلک وائلڈلائف ریزروز ہیں ۔مختلف اضلاع میں 40 پبلک وائلڈلائف ریزروز  ہیں جن میں  کمالیہ، چچہ وطنی، عباسیہ، ڈامن، پیرووال، کندیاں، ڈپر، اور لیہ و بھکر کے مختلف جنگلاتی رقبے شامل ہیں۔

ان ریزروز میں شکار کے لیے اجازت ناموں کی نیلامی 2 دسمبر 2025 کو سفاری چڑیا گھر لاہور میں ہوگی۔ ان تمام ریزروز میں شکار کا سیزن بھی 14 دسمبر سے 15 فروری تک ہوگا، سوائے چولستان اور چنکارہ پبلک وائلڈ لائف ریزرو کے، جہاں شکار 10 جنوری 2026 سے شروع ہوگا۔

حکام کے مطابق پانچویں اور آخری درجے میں پرائیویٹ وائلڈ لائف ریزروز ہیں۔ پرائیویٹ وائلڈلائف ریزروز کی تعداد سات ہیں جن میں چکوال میں کلر کہار اور دھرابی، تلاگنگ میں علی، جہلم میں پوٹھا اور پوٹوہار، اور اٹک میں کوٹ سلطان اور قلعہ سلطان کے پرائیویٹ ریزروز شامل ہیں۔ ان میں شکار مالک کی اجازت سے ہی کیا جا سکے گا اور ان کا سیزن بھی 14 دسمبر سے 15 فروری تک ہوگا۔

عاصم بلال نے بتایا  شکار صرف لائسنس یافتہ اسلحہ اور درست اجازت نامے سے ہی کیا جا سکے گا۔ خودکار یا سروس اسلحہ، پی سی پی اور ایئر گنز کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ ڈرونز یا الیکٹرانک آلات کا استعمال بھی سختی سے ممنوع ہے۔ شکار کے دوران گاڑی پر کھڑے ہو کر شکار کرنے (جیپنگ) کی ممانعت ہے، صرف لائسنس یافتہ گن ڈاگ ہی استعمال کیے جا سکیں گے۔

باز (ہاک) سے شکار صرف اس کے پاس رکھنے کے لائسنس کے ساتھ ہی جائز ہوگا۔ کسی بھی شکار پارٹی میں تین سے زیادہ شکاری اور دس سے زیادہ 'بیٹر' شامل نہیں ہو سکتے۔
محکمہ نے شکاریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شکار کے علاقوں کی صحیح جغرافیائی حدود سے آگاہی کے لیے متعلقہ ضلعی دفتر سے جی آئی ایس شیپ فائلز ضرور حاصل کریں تاکہ حدود سے تجاوز جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

انہوں نے بتایا تیتر کے شکار کے سیزن میں، خرگوش کا شکار بھی صرف اتوار کو ہی ان ہی شکاریوں کے لیے ہوگا جن کے پاس تیتر کا درست اجازت نامہ ہوگا۔

شکاریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شکار کے علاقوں کی درست حدود سے آگاہی کے لیے اپنے ضلعی وائلڈ لائف دفتر سے جغرافیائی طور پر نشان زدہ نقشے ضرور حاصل کریں تاکہ حدود کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟