پنجاب وائلڈ لائف نے صوبے بھر میں تیتر کے شکار کے لیے کے سیزن کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پنجاب وائلڈ لائف نے صوبے بھر میں تیتر کے شکار کے لیے کے سیزن کا اعلان کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تیتر کا شکار صرف اتوار کے دن ہی مخصوص علاقوں اور تاریخوں میں کیا جا سکے گا۔مخصوص علاقوں کے علاوہ تیترکے شکار کی فیس ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ شکار کے لئے سپیشل اور عام ہنٹنگ گراؤنڈز، کمیونٹیز کنرروینسیز، پبلک اورپرائیویٹ وائلڈلائف ریزروز بنائے گئے ہیں۔
پنجاب وائلڈلائف رینجر نے ترمیم شدہ وائلڈلائف ایکٹ کے تحت چکوال، تلہ گنگ، جہلم اورخوشاب میں مختلف علاقوں کو ہنٹنگ گراؤنڈز کا درجہ دیا ہے ۔مجموعی طور پر 125 سپیشل ہنٹنگ گراؤنڈز تشکیل دی گئی ہیں جہاں تیتر کے شکار کے لئے پرمٹ نیلامی کے ذریعے حاصل کرنا ہوگا۔
ڈپٹی چیف وائلڈلائف رینجر زاہد علی نے بتایا سپیشل ہنٹنگ گراؤنڈ میں تیترکے شکار کے لئے پرمٹ کی نیلامی 8 دسمبر 2025 کو ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر سالٹ رینج کے دفتر کلر کہار میں منعقد ہوگی۔
اگر اجازت نامے دستیاب رہے تو اگلے تین دنوں تک نیلامی جاری رہ سکے گی۔ ان مخصوص گراؤنڈز میں شکار کا سیزن 14 دسمبر 2025 سے شروع ہو کر 15 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ شکارسیزن کے اعلان سے قبل ان علاقوں میں سروے کیا گیا ہے اورسروے کے بنیاد پر ہی شکاریوں کو صرف مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی جائیگی۔
وائلڈلائف حکام کے مطابق سپیشل وائلڈلائف گراؤنڈز کے علاوہ 36 اوپن ہنٹنگ گراونڈز دکلیئر کی گئی ہیں جہاں شکار کا سیزن یکم دسمبر سے شروع ہوگا اور 15 فروری 2026 تک جاری رہیگا۔ ان اضلاع اور تحصیلوں کے بعض علاقوں میں شکار پرپابندی ہوگی۔
اٹک کے علاقہ جنڈ جبکہ ڈسٹرکٹ مری میں مکمل پابندی ہوگی۔اس کے علاوہ جھنگ کے علاقہ 18 ہزاری، بہاولنگر، بہاولپور اوررحیم یار خان کے چولستان ڈیزرٹ ایریا منظفرگڑھ کے تھل ڈیزرٹ اور راجن پور کی تحصیل روجھان میں شکار پرپابندی ہوگی جبکہ باقی تمام اضلاع میں شکار کھیلا جاسکے گا۔ان علاقوں میں شکار کے لیے "وائلڈ لائف پاس" سسٹم کے ذریعے اجازت نامے حاصل کیے جا سکیں گے۔
اسسٹنٹ چیف وائلڈلائف رینجرہیڈکوارٹر عاصم بلال کے مطابق تیسرے درجے میں کمیونٹی بیسڈ کنزروینسیز ہیں، جن میں چکوال میں واقع منارہ سیٹھی حدیقۃالواطین اور میارل برادرز شامل ہیں۔
ان میں شکار کے لیے ڈائریکٹر جنرل وائلڈ لائف اینڈ پارکس پنجاب سے خصوصی اجازت نامے حاصل کرنے ہوں گے۔
چوتھے درجے میں پبلک وائلڈلائف ریزروز ہیں ۔مختلف اضلاع میں 40 پبلک وائلڈلائف ریزروز ہیں جن میں کمالیہ، چچہ وطنی، عباسیہ، ڈامن، پیرووال، کندیاں، ڈپر، اور لیہ و بھکر کے مختلف جنگلاتی رقبے شامل ہیں۔
ان ریزروز میں شکار کے لیے اجازت ناموں کی نیلامی 2 دسمبر 2025 کو سفاری چڑیا گھر لاہور میں ہوگی۔ ان تمام ریزروز میں شکار کا سیزن بھی 14 دسمبر سے 15 فروری تک ہوگا، سوائے چولستان اور چنکارہ پبلک وائلڈ لائف ریزرو کے، جہاں شکار 10 جنوری 2026 سے شروع ہوگا۔
حکام کے مطابق پانچویں اور آخری درجے میں پرائیویٹ وائلڈ لائف ریزروز ہیں۔ پرائیویٹ وائلڈلائف ریزروز کی تعداد سات ہیں جن میں چکوال میں کلر کہار اور دھرابی، تلاگنگ میں علی، جہلم میں پوٹھا اور پوٹوہار، اور اٹک میں کوٹ سلطان اور قلعہ سلطان کے پرائیویٹ ریزروز شامل ہیں۔ ان میں شکار مالک کی اجازت سے ہی کیا جا سکے گا اور ان کا سیزن بھی 14 دسمبر سے 15 فروری تک ہوگا۔
عاصم بلال نے بتایا شکار صرف لائسنس یافتہ اسلحہ اور درست اجازت نامے سے ہی کیا جا سکے گا۔ خودکار یا سروس اسلحہ، پی سی پی اور ایئر گنز کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ ڈرونز یا الیکٹرانک آلات کا استعمال بھی سختی سے ممنوع ہے۔ شکار کے دوران گاڑی پر کھڑے ہو کر شکار کرنے (جیپنگ) کی ممانعت ہے، صرف لائسنس یافتہ گن ڈاگ ہی استعمال کیے جا سکیں گے۔
باز (ہاک) سے شکار صرف اس کے پاس رکھنے کے لائسنس کے ساتھ ہی جائز ہوگا۔ کسی بھی شکار پارٹی میں تین سے زیادہ شکاری اور دس سے زیادہ 'بیٹر' شامل نہیں ہو سکتے۔
محکمہ نے شکاریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شکار کے علاقوں کی صحیح جغرافیائی حدود سے آگاہی کے لیے متعلقہ ضلعی دفتر سے جی آئی ایس شیپ فائلز ضرور حاصل کریں تاکہ حدود سے تجاوز جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا تیتر کے شکار کے سیزن میں، خرگوش کا شکار بھی صرف اتوار کو ہی ان ہی شکاریوں کے لیے ہوگا جن کے پاس تیتر کا درست اجازت نامہ ہوگا۔
شکاریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شکار کے علاقوں کی درست حدود سے آگاہی کے لیے اپنے ضلعی وائلڈ لائف دفتر سے جغرافیائی طور پر نشان زدہ نقشے ضرور حاصل کریں تاکہ حدود کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔