پاکستان ریلوے کا لگژری سفر، کرایوں میں بڑی کمی کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور:
پاکستان ریلوے نے لگژری سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کرایوں میں واضح کمی کردی۔
ترجمان پاکستان ریلویز نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کا لگژری سفر اب کرایوں میں واضح کمی کے ساتھ ہوگا کیونکہ لگژری سیلون کے کرایے کم کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہری اب وزیر ریلوے کے سیلون میں آرام دہ اور شاندار سفر کر سکیں گے، کراچی سے راولپنڈی کے لیے وزیر ریلوے کے سکوں کا کرایہ ایک لاکھ 72 ہزار روپے کر دیا گیا اور کراچی سے لاہور کا کرایہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ لاہور سے راولپنڈی کا کرایہ صرف 44 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
قبل ازیں وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جہاں ریلوے پولیس کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جہاں بتایا گیا کہ وزیرِ ریلوے کی ہدایات پر ٹکٹ چیکنگ مہم مزید مؤثر بنا دی گئی ہے۔
وزیرریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ بغیر ٹکٹ سفر کرنے والا اور کروانے والا دونوں جیل جائیں گے، بغیر ٹکٹ سفر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ریلوے پولیس کی جانب سے چوری، اسمگلنگ اور جرائم کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور وزیرِ ریلوے کی ہدایت پر اینٹی انکروچمنٹ پالیسی پوری طرح فعال ہے، ریلوے اراضی پر برسوں پرانی تجاوزات کا خاتمہ بھی جاری ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریلوے کی زمین کا ایک ایک انچ واگزار کرایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر