عدالت نے یوٹیوبر ڈکی بھائی کی رہائی کی روبکار جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور:
ضلع کچہری میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی رہائی کا پروانہ جاری کر دیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم بھٹو نے رہائی کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اگر ڈکی بھائی کسی اور مقدمے میں مطلوب یا ملوث نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
عدالت نے اس حوالے سے سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کو باضابطہ روبکار بھی ارسال کر دی ہے۔
واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ پیر کو جوئے کی ایپلیکیشنز کی پروموشن سے متعلق مقدمے میں 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایسے نوعیت کے کیسز میں ضمانت نہ ہونا غیر معمولی بات ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈکی بھائی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔