میکسیکو میں امریکی مداخلت قبول نہیں کریں گے: صدر کلاڈیا شین بام کاردعمل
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میکسیکو سٹی: میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق کلاڈیا شین بام نے امریکی صدر کے میکسیکو فوج بھیجنے سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’میکسیکو امریکی فوجی مداخلت قبول نہیں کرے گا‘۔
کلاڈیا شین بام کا کہنا تھا کہ امریکا یہ چاہتا ہے کہ ہم منشیات مافیا کے خلاف کارروائی کریں، تو واضح کردوں منشیات فروشوں کے خلاف جو کرنا ہوگا وہ ہم خود کریں گے
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی کئی بار واضح کرچکی ہیں کہ امریکا میکسیکو میں فوجی کارروائی کرے یہ نہیں ہوسکتا۔
میکسیکو کی صدر نے کہا کہ ’ہم اس ڈرگ مافیا کے خلاف انٹیلجنس معلومات کے تبادلہ کرسکتے ہیں اور اس معاملے میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
واضح کرتے چلیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکومیں ڈرگ مافیا کے خلاف امریکی فوج استعمال کرنے کا اشارہ دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کلاڈیا شین بام کے خلاف
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔