ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے کی تفصیلی سی سی ٹی وی فوٹیج ایکسپریس نیوز کو موصول ہو گئی۔

دہشت گردی کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 3 خوارج کو ایک موٹر سائیکل پر سول کوارٹرز کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تینوں دہشت گرد رواں ٹریفک کی الٹی طرف سے اپنے ہدف کی طرف بڑھتے رہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں دہشت گردوں نے ٹوپیاں پہن رکھی ہیں اور چادریں اوڑھ رکھی ہیں، جس سے انہوں نے کافی حد تک اپنے چہرے چھپا رکھے ہیں۔ اسی اثنا میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز چوک کے قریب ایک دہشت گرد موٹرسائیکل سے اتر گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق دہشت گرد کچھ دیر آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور ایک دہشت گرد آگے بڑھ جاتا ہے۔ دیگر 2 دہشت گردوں نے موٹرسائیکل قریب ہی کھڑی کی اور انتظار کرنے لگے۔

موٹرسائیکل سے اُترنے والے دہشت گرد نے چل پھر کر اپنے ہدف کا جائزہ لیا۔ پہلے دہشت گرد نے کچھ دیر ایک کھمبے کے قریب کھڑے ہو کر انتظار بھی کیا۔ پہلے دہشت گرد نے کچھ وقفے کے بعد خود کو ایف سی ہیڈ کوارٹر کے گیٹ پر دھماکے سے اڑا دیا۔

دھماکے کے فوری بعد 2 دہشت گرد بیریئر کے قریب فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ اس موقع پر فوری جوابی کارروائی اور بکتر بند گاڑی حرکت میں آنے پر دہشت گرد قریب ہی پارکنگ میں چھپ گئے۔

ایف سی اہلکاروں کی چند منٹ کی مؤثر جوابی کارروائی سے دونوں دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر خودکش حملے میں 3 اہل کار شہید جب کہ 11 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں شہری بھی شامل تھے۔ واقعے میں ملوث تینوں دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

https://www.

facebook.com/share/v/16ZoXEAEqF/

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سی سی ٹی وی فوٹیج ایف سی ہیڈ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار