لاہور سفاری پارک میں اڈیکس اور عربین اوریکس ہرنوں کے ہاں بچوں کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور:
سفاری پارک میں اڈیکس اور عربین اوریکس ہرنوں کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔
پارک انتظامیہ کے مطابق دونوں جانوروں کے ہاں ایک ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کے بعد اڈیکس کی مجموعی تعداد چودہ اور اوریکس کی نو ہو گئی۔
اڈیکس کے موجودہ ریوڑ میں چار نر، سات مادہ اور تین بچے شامل ہیں جبکہ اوریکس میں تین نر، تین مادہ اور تین بچے موجود ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق عربین اوریکس سیدھے اورلمبے سینگوں والا ہرن ہے جو یواے ای کا قومی جانور بھی ہے جبکہ اڈیکس بنیادی طور پر شمالی افریقہ کے سہارا ریگستان میں پائے جاتے ہیں۔
دونوں جانور نیم خشک میدانوں، ساحلی ریگستانوں اور جھاڑیوں والے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ دونوں اقسام سخت موسمی حالات برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں اور کئی دن تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتی ہیں۔
خوراک کے حوالے سے سفاری انتظامیہ نے بتایا کہ اڈیکس اور اوریکس دونوں گھاس، خشک چراگاہوں کی جھاڑیاں، پتے اور بعض اوقات جڑیں بھی کھاتے ہیں۔ انہیں سفاری پارک میں سبز چارے اور خصوصی معدنی سپلیمنٹ فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی افزائش اور صحت برقرار رہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئی پیدائش نہ صرف افزائشی پروگرام کی کامیابی کا اشارہ ہے بلکہ سفاری پارک میں جنگلی حیات کے محفوظ ماحول کی ایک مثبت مثال بھی ہے جہاں مخصوص اقسام کی بقا اور تعداد میں اضافہ منصوبہ بندی کے تحت جاری ہے۔
وائلڈلائف سفاری زو میں ویٹرنری سروسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان خان کے مطابق یہ جانور مارچ 2024 میں لاہور سفاری پارک اپ گریڈیشن پراجیکٹ کے تحت لائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان غیرملکی جانوروں کو چوبیس گھنٹے بہترین صحت کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ ان کے لئے وسیع انکلوژز ہیں جہاں دیگر انواع کے جانور کے ساتھ ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی ڈائیٹ کا خیال رکھا جاتا ہے اورباقاعدہ ڈائٹ پلان کے تحت ہی خوراک دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ہاں صحت مند بریڈ آئی ہے۔ اس سے قبل لاہور چڑیا گھر میں نیالا ہرنوں کے ہاں بھی بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سفاری پارک میں کی پیدائش کے ہاں
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔