پشاور؛ ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی۔
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی۔۔!! pic.twitter.com/yjeMGysQ36
— Khurram Iqbal (@khurram143) November 24, 2025
فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر لگے کیمرے سے ریکارڈ ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خوفناک دھماکا مرکزی دروازے پر صبح 8 بج کر 11 منٹ پر ہوا، جس کے فوراً بعد جائے وقوع پر بھگدڑ مچ گئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گیٹ پر ہونےو الے پہلے خودکش حملے کے بعد دو حملہ آوروں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔
واقعے میں تینوں دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔
????????پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹرز مرکزی گیٹ خودکش دھماکے کے سی سی ٹی وی فوٹیج ۔۔۔ pic.
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) November 24, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سی سی ٹی وی فوٹیج خودکش حملے ایف سی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔