مصنوعی ذہانت کے ٹولز پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے: سربراہ گوگل
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
گوگل کی مالک کمپنی ایلفابیٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے ٹولز پر ’اندھا اعتماد‘ نہیں کرنا چاہیئے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو سندر پچائی کا کہنا تھا کہ اے آئی ماڈلز غلطیاں کرنے کے بہت امکانات رکھتے ہیں۔ انہوں نے اے آئی ٹولز کے ساتھ دیگر ٹولز کے استعمال پر زور بھی دیا۔
سندر پچائی کا کہنا تھا کہ لوگ اس لیے گوگل سرچ بھی استعمال کرتے ہیں اور کمپنی کے پاس مزید ایسے پروڈکٹس ہیں جو زیادہ درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں اے آئی ٹولز مددگار ہوتے ہیں وہیں لوگوں کو یہ ٹولز استعمال کرنے کا سلیقہ سیکھنا پڑے گا نا کہ جو بھی کچھ اے آئی کہہ دے اس پر اندھا اعتبار کر لیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے ا ئی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔