ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج تیار، حملہ آور دھماکے سے قبل کیا کرتا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حالیہ حملے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج تیار کرلی گئی ہے۔ مختلف کیمروں سے حاصل کی گئی فوٹیج میں حملہ آوروں کی ہر حرکت کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیج میں دیکھا گیا کہ تینوں حملہ آور ایک ہی موٹرسائیکل پر سوار ہوکر ہیڈکوارٹر کی طرف راستے میں الٹی سمت سے آئے۔ ہیڈکوارٹر کے قریب پہنچ کر انہوں نے دکان کے پاس موٹرسائیکل کھڑی کی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، تینوں خودکش حملہ آور ہلاک، 3 اہلکار شہید
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق پہلے خودکش حملہ آور ہیڈکوارٹر کے باہر کافی دیر انتظار کرتا رہا۔ فوٹیج میں ایک حملہ آور کو ٹوپی پہنے اور چادر میں بار بار چہرہ چھپاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں حملہ آور کچھ فاصلہ پیدل بھی آیا، اور اس کے قریب طلبا اور گاڑیاں گزرتی رہیں۔
حملہ آور نے پہلے گیٹ پر دھماکا کیا، جس کے دھوئیں میں 2 دیگر حملہ آور اندر داخل ہوئے۔ اندر داخل ہونے کے بعد بکتربند گاڑی نے ان کا راستہ روک دیا، جس کی وجہ سے حملہ آور پارکنگ ایریا میں چلے گئے۔ فوٹیج میں حملہ آوروں کو پارکنگ سے باہر نکلنے کی متعدد کوشش کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی، پارکنگ میں ہونے والے دھماکے کا منظر بھی فوٹیج میں واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ: پولیس کو سہولت کاروں کی تلاش، کیا حملہ آور افغان تھے؟
حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تحقیقات میں اہم پیش رفت متوقع ہے اور حملہ آوروں کی شناخت اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش دھماکا دہشتگردی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش دھماکا دہشتگردی سی سی ٹی وی فوٹیج ایف سی ہیڈکوارٹر فوٹیج میں حملہ آور
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔