بھارت سے تجارتی روابط بڑھانے کی کوششیں، افغان وزیر تجارت نئی دہلی پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بھارت سے تجارتی روابط بڑھانے کی کوششیں، افغان وزیر تجارت نئی دہلی پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز
کابل (سب نیوز )افغانستان نے پاکستان سے تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد بھارت سے تجارتی روابط بڑھانے کی کوششیں شروع کردیں۔افغانستان کے قائم مقام وزیر تجارت الحاج نورالدین عزیزی بھارت پہنچ گئے جہاں وہ بھارتی وزیر تجارت اور بھارتی وزیر خزانہ سے ملاقات کریں گے۔
افغان وزارت تجارت کے مطابق نورالدین عزیزی بھارتی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقات کریں گے، ملاقاتوں کا مقصد افغان بھارت معاشی تعاون میں توسیع، تجارتی تعلقات آسان کرنا اور افغان بھارت مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔افغان وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ مقصد علاقائی تجارت میں افغانستان کا کردارمضبوط کرنا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے افغان وزیر تجارت سے ملاقات کی تصویر شیئر کی اور کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت نے گزشتہ ماہ کابل میں اپنا سفارت خانہ کھولا ہے، 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد بھارت نے اپنا سفارتخانہ بند کردیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی ترانے کی بے ادبی، ملک مخالف نعرے، گومل یونیورسٹی کے متعدد طلبہ فارغ قومی ترانے کی بے ادبی، ملک مخالف نعرے، گومل یونیورسٹی کے متعدد طلبہ فارغ وفاقی دارالحکومت میں سیون اسٹار ہوٹل کی تعمیر کا فیصلہ ایف آئی اے نے وزات مواصلات کے ملازم کو دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کر لیا،ایف آئی آر درج،تفتیش جاری چیئر مین سی ڈی اے کی ہدایت پر اسلام آباد میں تجاوزات ، بلا اجازت تعمیرات اور بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر... عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں،27 ویں آئینی ترمیم پڑھ کر آئیں، آئینی عدالت کے جج کا مکالمہ آئندہ 10 سال میں دنیا میں کوئی کینسر سے نہیں مرے گا لیکن پاکستان میں لوگ مررہے ہوں گے، وزیر صحت
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔