پولیس کا گٹکا مافیا پر بڑا آپریشن، کروڑوں روپے کا گٹکا برآمد
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
ایس پی سٹی کی سربراہی میں گٹکا مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں ایس ایچ او شاد باغ زاہد احمد کی کارروائی کے دوران گٹکا تیار کر کے فروخت کرنے والے دو ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ شاد باغ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ملزمان کو گٹکا سمیت گرفتار کیا۔ ملزمان کے قبضہ سے 40 کلو لیکوئیڈ گٹکا، 25 پیکٹ چونا گٹکا تیار کرنے والے اوزار اور خام مال سمیت دیگر سامان برآمد ہوا۔ ملزمان لاہور سمیت دیگر اضلاع میں پابندی کے باوجود گٹکا تیار کر کے فروخت اور سپلائی کرتے تھے۔ ملزمان گٹکا کی ترسیل کے لیے لوکل ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان میں عبدالجبار اور حسنین شامل ہیں جن پر مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔ ایس پی سٹی بلال احمد کا کہنا تھا کہ گٹکا فروشی کے خلاف بڑی کارروائی پر ایس ایچ او شاد باغ زاہد احمد اور ٹیم کو شاباش دی گئی ہے۔ گٹکا مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔