وفاقی شرعی عدالت کے دفتر نے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر اعتراضات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
وفاقی شرعی عدالت کے دفتر نے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
درخواست میں وزارت قانون و انصاف اور وزارت پارلیمانی امور کے سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے دفتر نے کہا کہ آئینی ترمیم کے خلاف یہ درخواست شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔
درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عدلیہ کی آزادی اور احتساب اسلام کے بنیادی اصول ہیں، اور یہ ترمیم ان اصولوں کو محدود کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت کورٹ اسلامی تعلیمات کے خلاف معاملات کی سماعت کر سکتی ہے۔
بیرسٹر علی طاہر نے مزید کہا کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو دیا گیا تاحیات استثنیٰ غیر اسلامی ہے اور عدلیہ آزادانہ طور پر کیسز نہیں سن سکتی، جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے 27 ویں ترمیم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کرنے کی استدعا کی۔
بعد ازاں وفاقی شرعی عدالت کے عملے نے درخواست کی نقول اسلام آباد بھیج دی ہیں اور رجسٹرار سے درخواست کی کہ سماعت کے لیے درخواست وصول کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی شرعی عدالت کے کے خلاف
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔