نجی اسکولوں کو مہنگی نوٹ بکس و یونیفارمز فروخت پر شوکاز نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے طلباء کو اسکول کے لوگو والی مہنگی نوٹ بکس اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کرنے کے معاملے پر ملک کے 17 بڑے نجی اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
کمیشن کے مطابق یہ عمل مشروط فروخت (Tying) کے زمرے میں آتا ہے اور کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ سی سی پی نے خودکار کارروائی (سو موٹو ایکشن) لیتے ہوئے ان اسکولوں کی پالیسیوں کی جانچ شروع کی ہے۔
انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ کئی اسکولوں نے مخصوص وینڈرز کے ساتھ خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں، جس کے باعث لوگو والی کاپیاں مارکیٹ میں اصل قیمت سے 280 فیصد تک مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔
ایڈمیشن کے بعد طلباء ‘محصور صارفین’ بن جاتے ہیں، کیونکہ ملک میں تقریباً 50 فیصد طلباء نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ والدین گائیڈ لائنز کے نام پر مہنگی مصنوعات خریدنے پر مجبور ہیں اور سستے متبادل بازار سے خریداری نہیں کر سکتے۔
نوٹس حاصل کرنے والے اسکولوں میں ملک کے بڑے نام شامل ہیں جو ہزاروں کیمپس چلاتے ہیں، اور لاکھوں طلباء و والدین اس پالیسی سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں چھوٹے اسٹیشنری اور یونیفارم فروش بھی مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
کمیشن کے مطابق اسکول اپنی مارکیٹ پاور کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں والدین اسکول کے تجارتی فیصلوں پر مجبوراً عمل کرتے ہیں اور طلبہ ‘یرغمال صارفین’ بن جاتے ہیں۔
کمیشن نے اسکولوں کو 14 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دی ہے، بصورت دیگر ہر اسکول کو ساڑھے سات کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔