طلال چودھری کو27نومبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251125-08-17
اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے وزیر مملکت طلال چودھری کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے پر 27نومبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔سوموار کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے پرچیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تاہم وزیر مملکت کمیشن کے سامنے پیش نہ ہوئے ۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن حکام نے کمیشن کو بتایا کہ وزیر مملکت طلال چودھری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں ،حکام نے بتایا کہ وزیر مملکت کسی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں، ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزیر مملکت نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور آنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن حکام نے کمیشن کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ماضی میں ایک وزیر اور امیدوار کے خلاف کارروائی کر چکی ہے ،حکام نے بتایا کہ وزیر مملکت کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا وزیر مملکت طلال چودھری کے وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ طلال چودھری نے مجھ سے رابطہ کیا وہ یہاں پیش ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کہ وزیر مملکت الیکشن کمیشن طلال چودھری بتایا کہ حکام نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔