بحیرہ عرب میں بڑا آپریشن؛ 2000 کلوگرام سے زائد آئس ضبط
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
سٹی 42 : پاک بحریہ نے انسداد منشیات کے بڑے آپریشن کے دوران 130 ملین ڈالرز کی منشیات ضبط کر لیں۔
انسداد منشیات آپریشن پی این ایس تبوک نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران بحیرہ عرب میں کیا۔ یہ آپریشن سعودی عرب کی زیر قیادت کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کی ٹاسک فورس 150 کی معاونت میں کیا گیا۔
مشکوک ماہی گیر کشتی پر آپریشن کے دوران پی این ایس تبوک نے 2000 کلوگرام سے زائد میتھم فیٹامائن (آئس) ضبط کر لی۔
آئندہ برس مون سون کے نقصانات سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کی جائے؛ وزیراعظم
یہ انسداد منشیات آپریشن گذشتہ دو ماہ میں پاک بحریہ کا مسلسل تیسرا کامیاب آپریشن ہے۔ پاک بحریہ سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔پاک بحریہ قومی بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے اور عالمی میری ٹائم سیکیورٹی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔