Islam Times:
2026-07-24@02:40:40 GMT

روس یوکرین جنگ ختم کرانےکے قریب پہنچ گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

روس یوکرین جنگ ختم کرانےکے قریب پہنچ گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

وائٹ ہاؤس میں تھینکس گِیونگ کی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہدایت کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے حوالے سے اب صرف چند اختلافی نکات باقی رہ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں تھینکس گِیونگ کی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں، تاہم اب اس جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے امن معاہدے پر غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 9 ماہ میں 8 جنگیں رُکوائیں اور اب ایک اور جنگ رُکوانے پر کام کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہدایت کی ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے حوالے سے اب صرف چند اختلافی نکات باقی رہ گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی امن معاہدے سے متعلق غیر معمولی پیش رفت سے آگاہ کیا اور کہا کہ کچھ نازک نکات پر مزید بات چیت درکار ہوگی۔ چند روز قبل امریکی اور یوکرینی حکام نے جنیوا میں 28 نکاتی امریکی امن تجویز پر مذاکرات کیے، جس کے بعد دونوں ممالک نے نئے فریم ورک پر کام کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنےکے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی صدر نے کہا کہ گئے ہیں

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل