دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا دن آج منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کا دن آج منایا جا رہا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد خواتین پر تشدد کو ختم کرنے کیلئے شعور بیدار اور مضبوط اقدام کرنا ہے۔
خواتین پر تشدد کے خاتمے کا عالمی دن ہرسال 25 نومبر کو منایا جاتا ہے، اس روز اقوام متحدہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے حکومتوں کی طرف سے کئے گئے اقدام کا جائزہ لیتا ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز سیکڑوں خواتین اور لڑکیاں اپنے قریبی ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوجاتی ہیں یاجسمانی اور جنسی تشدد برداشت کرتی ہیں۔
راکھ کا بادل پاکستان آ گیا، پروازوں کو خطرہ لاحق، سرکاری الرٹ آگیا
کوئی بھی معاشرہ خود کو منصف، محفوظ یا صحت مند نہیں کہہ سکتا جب اس کی نصف آبادی خوف میں جی رہی ہو، خواتین پر تشدد انسانیت کی سب سے پرانی ناانصافی ہے جس پر عملی اقدام انتہائی کم ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق تنازعات اور ماحولیاتی آفات سے متاثرہ عورتیں تشدد کے زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں، سال 2025ء کا نعرہ ’’تمام خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کیلئے متحد ہوجائیں‘‘ رکھا گیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس مسئلے کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی، آئیں مل کر خواتین کے خلاف تشدد کو کتاب ماضی کا حصہ بنا دیں۔
پاکستان بھی خواتین کے حقوق کے مکمل ادراک اور ان کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کےعزم کا اعادہ کرتا ہے، ملک میں خواتین کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کیلئے قانونی اور انتظامی طریقہ کار کو مضبوط کیا گیا ہے، خواتین کی تمام شعبوں میں شرکت بڑھانے اور سماجی جگہ کو محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی بھی کی گئی ہے۔
پاکستانی ٹینس سٹار اعصام الحق نے بین الاقوامی ٹینس کو الوداع کہہ دیا
انسانی حقوق کے بارے میں حکومت کے قومی ایکشن پلان میں خواتین کا تحفظ اہم ترجیحات میں شامل ہے، خواتین کے تحفظ اور مفت قانونی مشورے کیلئے ملک بھر میں شیلٹر ہوم قائم کئے گئے ہیں، خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کو بھی مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
خواتین کے خلاف تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنے کیلئے معاشرے اور حکومت دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خواتین پر تشدد تشدد کے خاتمے میں خواتین خواتین کے کے خلاف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔