پریانکا چوپڑا نے اپنی کزن پرینیتی کے نومولود بیٹے کے لیے ایک پیارا سا تحفہ بھجوادیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے اپنی کزن پرینیتی چوپڑا کے نومولود بیٹے کے لیے ایک پیارا سا تحفہ بھجوادیا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے بالی ووڈ کی مشہور کزن سسٹرز کے درمیان ناراضی کی افواہیں گردش کر رہی تھیں، خاص طور پر اس وقت جب پرینیتی اپنے کزن سدھارتھ چوپڑا کی شادی سے قبل ہونے والی تقریبات میں نظر نہیں آئیں تاہم بعد ازاں شادی میں شرکت نے تمام قیاس آرائیوں کو خاموش کر دیا تھا۔
اب پرینیتی اور راگھو چڈھا کے ہاں 19 اکتوبر 2025 کو بیٹے کی پیدائش کے بعد پریانکا نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ اپنے خاندان کی جانب سے ننھے بھانجے کے لیے ایک خوبصورت تحفہ بھی بھیجا۔
پرینیتی نے انسٹاگرام اسٹوری پر اپنی کزن بہن کے بھجوائے گئے تحائف کی تصویر شیئر کی۔ تصویر میں براؤن اور آف وائٹ رنگوں کے خوبصورت بیبی کپڑے، ایک اسٹفڈ ٹوائے اور دیگر ضروری سامان دیکھا جا سکتا ہے۔
اداکارہ نے تصویر کے ساتھ لکھا کہ ننھا نیر ابھی سے پیار میں بگڑنے لگا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ نیئر گیٹنگ اسپلٹ آلریڈی، تھینک یو میمی ماںسی، نک ماںسا اور مالتی دی دی۔
یاد رہے کہ 37 سالہ پرینیتی چوپڑا نے 24 ستمبر 2023 کو سیاستدان راگھو چڈھا سے شادی کی تھی اور اب دونوں اپنی نئی زندگی کے اس خوبصورت مرحلے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔