نرگس فخری کو سالگرہ پر شوہر کی جانب سے قیمتی رولز روئس کا تحفہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اداکارہ نرگس فخری ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھا گئیں اور اس بار وجہ بنا ان کا مہنگا ترین برتھ ڈے گفٹ جس نے مداحوں کو حیران کردیا۔
46 سالہ اداکارہ نے انسٹاگرام پر شوہر ٹونی بیگ کی جانب سے ملنے والی اپنی نئی نیلے رنگ کی لگژری کار کی تصاویر شیئر کیں جو ایک بڑے سرخ ربن میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس گاڑی کی مالیت تقریباً 10 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔
اگرچہ نرگس کی سالگرہ اکتوبر میں تھی مگر انہوں نے یہ تحفہ نومبر میں سامنے لاتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ اب وہ سوچ رہی ہیں کہ اگلے سال 2026 کا برتھ ڈے گفٹ کیا ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نرگس نے اپنی گاڑی کی وہ تصاویر بھی پوسٹ کیں جن میں ان کی رولز روئس ان کے شوہر کی رولز روئس کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے۔ پوسٹ سامنے آتے ہی شوبز ستاروں نے تبصروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
View this post on InstagramA post shared by Nargis Fkhri (@nargisfakhri)
پروڈیوسر ایکتا کپور نے لکھا کہ ٹونی بھائی بہترین ہیں، جبکہ ہدایتکار ترن منسکانی نے مزاح کرتے ہوئے کہا کہ ٹونی، نرگس کو چھوڑو، میری سالگرہ بھی آنے والی ہے۔
خیال رہے کہ نرگس فخری اور ٹونی بیگ رواں سال اس وقت خبروں میں آئے تھے جب یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ دونوں نے لاس اینجلس میں قریبی دوستوں اور اہل خانہ کی موجودگی میں سادگی سے شادی کر لی ہے۔ اگرچہ جوڑے نے باضابطہ اعلان نہیں کیا، مگر فرح خان کے ایک انٹرویو میں نرگس کو ٹونی کی بیوی کہہ دینے کے بعد یہ چہ مگوئیاں مزید بڑھ گئی تھیں۔
ٹونی بیگ کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور وہ کاروباری دنیا کی معروف شخصیت ہیں۔ وہ ڈائیوز گروپ کے چیئرمین ہیں اور آسٹریلیا کی وکٹوریہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2006 میں کاروبار کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ اسے عالمی سطح پر پھیلا دیا۔ ان کی کمپنیوں میں الینک، ایٹ ہیلتھ اور اویسس اپیرل شامل ہیں۔
دوسری جانب نرگس فخری حال ہی میں ملپ زاوری کی فلم مستی 4 میں نظر آئیں، اس سے قبل وہ ہاؤس فل 5 کی کاسٹ کا بھی حصہ بنی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز