کے پی میں غیر قانونی مائینگ سکینڈل میں ملوث ٹھیکیدار کے اثاثے منجمند
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
احتساب عدالت میں غیر قانونی مائینگ سکینڈل میں ملوث ٹھیکیدار کے اثاثے منجمند کرنے کے لیے نیب کی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق درخواست پر سماعت احتساب جج حامد مغل نے کی جس کے دوران سینئر پراسیکوٹر نیب حبیب اللہ بیگ پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزم کی کروڑوں روپے کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
نیب پراسیکوٹر نے بتایا کہ ملزم زرگل خان ٹھیکیدار ہے ، ملزم نے دیگر ساتھیوں سے ملکر کاکول کے گزارہ جنگلات میں غیر قانونی مائنگ کی۔ ملزم کا غیر قانونی مائننگ کے پیچھے مرکزی کردار ہے۔
مزید برآں ملزم نے 2010 سے جولائی 2025 تک ایک لاکھ 41 ہزار 869 میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالا۔ ملزم نے قومی خزانے کو 643.
ملزم کے نام پر ایبٹ آباد میں مختلف آٹھ جگہوں پر پلاٹس نکل آئے ہیں ، ملزم کے نام تین قیمتی گاڑیاں بھی رجسٹرڈ ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ملزم کے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور نیب آرڈیننس کے تحت اثاثے منجمد کیے جائیں جائے۔
عدالت نے ملزم کی مذکورہ جائیداد اور اثاثے منجمند کرنے کا حکم دیدیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملزم کے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔