19 خواتین اور بچوں کو بےدردی سے قتل کرنے کا اعتراف کرنے والا ملزم عدالت سے بری
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بھارت کے علاقے نوئیڈا میں بچوں کے قتل کے کیس کو تقریباً 2 دہائیاں گزرنے کے بعد ایک بار پھر ملک بھر میں بحث چھڑ گئی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے مقدمے کے آخری ملزم سرندر کُولی کو بھی بری کر دیا ہے۔ 12 نومبر کو عدالتِ عظمیٰ نے اُن کے خلاف زیرِ التوا آخری مقدمے میں سابقہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اعترافی بیان جس میں انسانیت سوز جرائم کا ذکر تھا، تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا اور قابلِ اعتماد نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بچے کے اغوا اور قتل کا مقدمہ، سپریم کورٹ نے 15 سال بعد ملزمان کو بری کردیا
یہ کیس دسمبر 2006 میں اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب نوئیڈا کے علاقے نٹھاری میں واقع بنگلے کے قریب گٹر اور نالیوں سے 19 خواتین اور بچوں کی ہڈیاں، کھوپڑیاں اور کپڑے ملے۔ بنگلے کے مالک تاجر موندر سنگھ پنڈہر اور اُن کے خادم سرندر کُولی کو اسی وقت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات اور منظرِ عام پر آنے والے شواہد نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔
سالوں تک دونوں ملزمان کو مختلف مقدمات میں سزائے موت سنائی جاتی رہی، تاہم تحقیقاتی عمل میں سنگین خامیوں کے باعث 2023 میں پنڈہر اور اب 2025 میں کُولی کو بھی بری کر دیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے ’آسان راستہ‘ اختیار کرتے ہوئے ایک غریب ملازم کو ملوث کیا جبکہ حقیقی قاتل تک پہنچنے میں سنگین غفلت برتی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: کرائم ویب سیریز سے متاثر ہوکر 15 سالہ لڑکے نے بچے کو قتل کردیا
متاثرہ خاندانوں کی اکثریت اب نٹھاری چھوڑ چکی ہے، مگر وہ دو خاندان جو آج بھی وہاں مقیم ہیں، بے یقینی اور صدمے کا شکار ہیں۔ بچوں کے والدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پنڈہر اور کُولی بے گناہ ہیں تو پھر اُن کے بچوں کو قتل کس نے کیا؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے دوبارہ تحقیقات کی درخواست کی جا سکتی ہے، لیکن 19 سال گزر جانے کے بعد اس کے کامیاب ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بچے خواتین عدالت ملزمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :