2 بچوں کو قتل کرکے سوٹ کیس میں چھپانے پر ’ماں‘ کو عمر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
نیوزی لینڈ میں 45 سالہ ہاک یونگ لی کو اپنے 2 بچوں یونا جو (8 سال) اور منو جو (6 سال) کو قتل کرنے اور ان کے جسم سوٹ کیسز میں چھپانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ کم از کم 17 سال جیل میں رہیں گی قبل اس کے کہ انہیں پیرول کے لیے اہل قرار دیا جائے۔
مزید پڑھیں: 2 بچوں کو قتل کرکے لاشیں برسوں تک سوٹ کیس میں چھپانے والی ماں پر جرم ثابت
قتل 2018 میں ہوئے، جب ہاکیونگ کے شوہر کینسر سے وفات پا چکے تھے۔ ان کے وکیل عدالت کو بتا چکے ہیں کہ اس دوران ہاکیونگ کی ذہنی صحت خراب تھی اور انہوں نے سوچا کہ خاندان سب ایک ساتھ مر جائے۔
بچوں کے جسم 2022 میں ایک اسٹوریج یونٹ کی نیلامی جیتنے والے جوڑے نے دریافت کیے۔ عدالت نے کہا کہ ہاکیونگ کی ذہنی حالت کو مقدمے میں مدنظر رکھا گیا، لیکن قتل منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیں: بیٹی کی لاش 20 برس فریزر میں محفوظ رکھنے والی ماں گرفتار
قتل کے بعد ہاکیونگ نے اپنا نام بدل کر نیوزی لینڈ چھوڑ دیا اور ستمبر 2022 میں جنوبی کوریا سے گرفتار ہو کر واپس نیوزی لینڈ لائی گئی۔
عدالت نے کہا کہ انہیں ذہنی حالت کے پیش نظر ’خاص مریض‘ کے طور پر قید کے دوران علاج فراہم کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سوٹ کیس عمر قید ماں نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوٹ کیس نیوزی لینڈ نیوزی لینڈ
پڑھیں:
مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
مردان میں خاتون سمیت 3 افراد کے بہیمانہ قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واردات کے بعد مقتولین کے 2 بچوں کو ساتھ لے جانے والے ملزمان بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مردان کے علاقے شیخ ملتون میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں مسلح ملزمان نے خاتون سمیت 3 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتولین کے 2 کمسن بچوں اور گاڑی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس پر علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مردان، خواجہ سرا کو چھری کے وار سے قتل کردیا گیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان دونوں بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہو گئے۔ بچوں کے محفوظ مل جانے پر اہل خانہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فرار کے راستوں کا بھی سراغ لگا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی اس واردات کے محرکات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ جدید تفتیشی ذرائع اور دستیاب شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
قتل مردان