تھائی لینڈ میں بارش کا 300 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا‘ 19 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنکاک (انٹرنیشنل ڈیسک) تھائی لینڈ میں بارش کا 300 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ سیلابی صورتحال کے باعث 9 صوبے زیر آب آگئے، جب کہ مختلف حادثات میں 19 افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی حکام کے مطابق تھائی لینڈ میں مختلف علاقوں میں 400 ملی میٹرسے زائد بارش ریکارڈ ہوئی جس سے 300 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ گزشتہ ہفتے کے آخر سے جاری طوفانی بارش نے سیاحتی شہر ہاٹ یائی سمیت جنوبی علاقے کو ڈبو دیا ہے۔شہر میں مسلسل بارش سے 8 فٹ تک جمع ہوگیا۔مسلسل بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال کے باعث 9 صوبے زیرِ آب آگئے اور ایک لاکھ 27 ہزار گھرانے متاثر ہو گئے۔تھائی وزارتِ صحت کے مطابق کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تھائی حکومت نے منگل کے روز جنوبی حصے میں بھی ہنگامی حالت نافذ کر دی، کیونکہ محکمہ موسمیات نے اس ہفتے مزید بارش اور ممکنہ سیلاب کی پیشگوئی کی ہے۔ تھائی لینڈ میں عام طور پر جون سے ستمبر تک شدید بارشیں ہوتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسمی حالات غیر متوقع ہو گئے ہیں۔واضح رہے کہ ملائیشیا اور ویتنام میں بھی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تھائی لینڈ میں
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا