سلمان علی آغا نے راہول ڈریوڈ کا 26 سالہ ریکارڈ پاش پاش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے کپتان سلمان علی آغا نے کرکٹ کی عالمی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے کپتان سلمان علی آغا نے 26 سال پرانے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے ایک سال میں سب سے زیادہ انٹرنیشنل میچز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
سال 2025 میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے اب تک 54 انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تمام میچز میں سلمان علی آغا ٹیم کا حصہ رہے، جس کی بدولت وہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ فعال کرکٹر بن گئے۔
یہ تاریخی ریکارڈ سلمان علی آغا نے اتوار کو سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں زمبابوے کے خلاف میچ کھیل کر حاصل کیا۔
انہوں نے 2025 کے دوران 54 انٹرنیشنل میچز کھیل کر سابق بھارتی کرکٹر راہول ڈریوڈ کا 1999 میں قائم کردہ ریکارڈ توڑ دیا۔ اس سے قبل راہول ڈریوڈ نے 1999 میں مجموعی طور پر 53 انٹرنیشنل میچز کھیل کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
یہ کامیابی نہ صرف سلمان علی آغا کی محنت اور فٹنس کی عکاس ہے بلکہ پاکستان کرکٹ کے لیے بھی فخر کا لمحہ ہے، جو سال بھر مسلسل کارکردگی اور مستقل مزاجی کے عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل میچز کھیل سلمان علی آغا نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔