پاکستانی مندوب عاصم افتخار کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نیویارک میں صدر جنرل اسمبلی سے ایک نہایت اہم سفارتی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے متعدد عالمی اور علاقائی موضوعات پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ ملاقات ایسے وقت میں کی گئی جب دنیا بھر میں سیاسی کشیدگی، معاشی بے یقینی، ماحولیاتی بحران اور تنازعات میں اضافہ عالمی اداروں کی مؤثر کارکردگی اور اصلاحات پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔
عاصم افتخار نے صدر جنرل اسمبلی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید بااختیار اور مستحکم بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ملاقات میں اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات، جنرل اسمبلی کے کردار میں اضافہ، اور سیکرٹری جنرل کے انتخابی عمل کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی گئی۔ پاکستانی مندوب نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کی پالیسی اور فیصلہ سازی کے عمل کو زیادہ شفاف، جامع اور نمائندہ بنانے کے لیے دنیا کے تمام خطوں کو برابر کی آواز ملنی چاہیے، جن میں ترقی پذیر ملک خصوصاً اہم ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی complexities کے باعث ادارے کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ نہ صرف تنازعات روکنے بلکہ پائیدار امن کو فروغ دینے میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔
صدر جنرل اسمبلی نے بھی پاکستان کے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کی فعالیت کو بڑھانے اور اس کے ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے دنیا بھر کی رائے اور تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کثیرالجہتی سفارت کاری موجودہ دور کی پیچیدہ عالمی صورتحال میں واحد ایسا راستہ ہے جو ملکوں کے درمیان رابطے، اعتماد اور تعاون کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ درپیش چیلنجز جیسے ماحولیاتی تبدیلی، غربت، تنازعات، مہاجرین کے مسائل اور عالمی معیشت کی کمزوریوں کا مقابلہ کوئی ایک ملک یا تنظیم اکیلے نہیں کرسکتی۔
گفتگو کے دوران دنیا کو درپیش بڑے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں، باہمی احترام اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔
عاصم افتخار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نہ صرف اقوام متحدہ کی امن مشنز میں اپنا کردار بہترین انداز میں ادا کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ عاصم افتخار جنرل اسمبلی کے لیے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔