مظفر گڑھ: طلبہ کو سکول لےجانے والے رکشے ریس لگاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے، طالبہ جاں بحق، 13 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں طلبا و طالبات کو سکول لے جانے والے رکشے سے ریس لگاتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث آپس میں ٹکرا گئے، حادثے میں ایک 9 سالہ طالبہ جاں بحق جبکہ 13 طلبہ زخمی ہوگئے۔
مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں طلباء و طالبات کو سکول لے جانے والے رکشے آپس میں ٹکرا گئے۔
پولیس کے مطابق حادثے میں 9 سالہ طالبہ انشراح راشد جاں بحق ہو گئی جبکہ اس موقع پر 13 طلباء و طالبات زخمی بھی ہوئے۔
راکھ کا بادل پاکستان آ گیا، پروازوں کو خطرہ لاحق، سرکاری الرٹ آگیا
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ رکشوں کے ریس لگانے کی وجہ سے پیش آیا، واقعے کے بعد دونوں رکشہ ڈرائیورز کو رکشوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والی طلبا و طالبات کو ٹی ایچ کیو اسپتال جتوئی منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔