کینیڈا میں اسکول کی طالبات کو ہراساں کرنے والا بھارتی شہری ملک بدر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
کینیڈا میں اسکول کی طالبات کو ہراساں کرنے والے ایک بھارتی شہری کو عدالت کے حکم پر ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 51 سالہ جگجیت سنگھ کو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کی عدالت نے دو کم عمر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے الزامات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے ملک بدر کرنے اور دوبارہ کینیڈا میں داخلے پر مکمل پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جگجیت سنگھ چھ ماہ کے ویزے پر جولائی میں اپنے نومولود پوتے سے ملنے کے لیے کینیڈا آیا تھا۔ تاہم کینیڈین پولیس کے مطابق، وہ وہاں پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد مقامی ہائی اسکول کے باہر موجود اسموکنگ ایریا میں اکثر نوجوان لڑکیوں کے قریب آتا اور ان سے تصاویر لینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ غیر مناسب گفتگو بھی کرتا رہا۔
کینیڈین پولیس نے بتایا کہ 8 ستمبر سے 11 ستمبر کے دوران جگجیت سنگھ نے متعدد بار طالبات کے قریب جا کر انہیں ہراساں کیا اور اسکول کی حدود سے باہر بھی ان کا پیچھا کیا۔ ایک کینیڈین طالبہ نے پولیس کو بتایا کہ ابتدا میں وہ تصویر کھنچوانے پر رضامند نہیں ہوئی، مگر بعد میں امید کے ساتھ تصویر کے لیے ہاں کر دی، لیکن جگجیت سنگھ نے تصویر لیتے وقت بہت قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا، جس سے طالبہ خوفزدہ ہو گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جگجیت سنگھ کو 16 ستمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس پر جنسی ہراسانی اور جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد ایک اور شکایت کے بعد اسے دوبارہ گرفتار کیا گیا، اس بار اس نے عدالت میں اسکول کی طالبات کو ہراساں کرنے کا اعتراف بھی کیا۔
کینیڈین عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جگجیت سنگھ کا اسکول کی حدود میں آنا ناقابل قبول تھا اور اس قسم کا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی شہری کو فوری طور پر ڈی پورٹ کرنے اور آئندہ کینیڈا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کو ہراساں کرنے کینیڈا میں جگجیت سنگھ اسکول کی کے مطابق
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :