عینی شاہدین کے مطابق بیرن گلی سے ایبٹ آباد آنے والی یاسر خلیل کی گاڑی (کیری ڈبہ) کھڑی کے مقام پر ایک ہزار فٹ سے زائد گہری کھائی میں جا گری۔ اسلام ٹائمز۔ گاڑی گہری کھائی میں گرنے کے حادثے میں طالبات سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ بگنوتر کی حدود میں واقع بیرن گلی کے قریب ایک گاڑی (کیری ڈبہ) خوفناک حادثے کا شکار ہوکر گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ گاڑی کے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بیرن گلی سے ایبٹ آباد آنے والی یاسر خلیل کی گاڑی (کیری ڈبہ) کھڑی کے مقام پر ایک ہزار فٹ سے زائد گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں 6 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جن میں 2 انٹر کی طالبات بھی شامل تھیں جو امتحان دینے ایبٹ آباد جا رہی تھیں۔

جاں بحق ہونے والوں میں باپ اور بیٹا ذوالفقار اور زبیر، 2 سگی بہنیں دختران شبیر احمد، ڈرائیور یاسر خلیل اور اختر شامل ہیں۔ کھائی زیادہ گہری ہونے کے باعث لاشوں کو نکالنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں جب کہ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ حادثے کو چند گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود ریسکیو کی ٹیموں کے موقع پر نہ پہنچنے پر علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گہری کھائی میں ایبٹ آباد کے مطابق

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری