نائیجیریا: مسلح حملے میں کیتھولک اسکول کے 200 سے زائد طلبہ اغوا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نائیجریا میں ایک اسکول سے 200 سے زائد طلبہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق نائیجریا میں ایک کیتھولک اسکول سے بڑے پیمانے پر طلبہ کو اغوا کر لیا گیا، جس میں 227 طلبہ اور 12 اساتذہ شامل ہیں، واقعہ شمال مغربی نائیجریا میں جمعہ کو پیش آیا، جب مسلح افراد نے اسکول میں داخل ہو کر طلبہ اور اساتذہ کو اسلحہ کے زور پر اغوا کیا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق کرسچن ایسوسی ایشن آف نائیجیریا نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ کچھ طلبہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، تاہم بڑی تعداد مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہو گئی۔
کرسچن ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے اسکول کا دورہ بھی کیا اور بتایا کہ واقعے کی شدت 2024 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا ہے، اس سے قبل 2024 میں کدانا ریاست میں تقریباً 200 طلبہ اغوا ہوئے تھے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پولیس اور مقامی انتظامیہ نے بھی سینٹ میری اسکول سے طلبہ اور اساتذہ کے اغوا کی تصدیق کی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ اغوا شدگان کی فوری بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشنز اور حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔ واقعہ نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ بچوں اور تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرے کی عکاسی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔