معاشی ترقی کی رفتار ہر دِن بہتر ہورہی ہے جس کے شواہد قوم کے سامنے آرہے ہیں؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیرف اصلاحات کی بدولت مثبت رجحانات اور ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کے درست ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے، تازہ ترین معاشی اعدادوشمار، حکومتی معاشی اصلاحات کو درست ثابت کررہے ہیں جن کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار ہر دِن بہتر ہورہی ہے جس کے شواہد بھی کاروباری برادری اور قوم کے سامنے آرہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی ٹیکس نظام میں اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا۔ اس دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال ہونے والی ٹیرف اصلاحات کا کوئی منفی اثر ریونیو وصولی پر مرتب نہیں ہوا بلکہ درآمدی سطح پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیوٹی فری امپورٹس میں 41.5 فی صد اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ درآمدات میں بڑا اضافہ اُن مصنوعات میں ہوا ہے جو خام مال اور انٹرمیڈیٹ کے درجے میں آتی ہیں۔ اسے نچلی سطح پر پیداواری اثرات میں نمایاں بہتری کی علامت قرار دیاجاسکتا ہے۔ ٹیرف میں کمی اور ٹیکس نظام کی بہتری سمیت جاری معاشی اصلاحات کا مقصد مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو اور بھی زیادہ سازگار بنایاجائے۔ ڈیوٹی فری امپورٹ کے زمرے میں آنے والی اشیاء کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جو حکومت کی ٹیرف کو معقول بنانے کے اقدامات کے موثر ہونے کی علامت ہے جس کا مقصد خام مال اور ثانوی درجے میں آنے والی اشیاء کی درآمد کے بڑھنے کی وجہ سے ہے۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
اجلاس کو بتایاگیا کہ ٹیرف اصلاحات کا مقصد یہ تھا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں استعمال ہونے والے خام اجزا کی قیمت میں کمی آئے تاکہ ملکی برآمدات کا حجم بڑھے اور عالمی منڈی میں مسابقت ممکن ہوسکے ۔ تازہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی کامیاب رہی ہے۔کسٹم اصلاحات سے حاصل ہونے والے نتائج میں ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہترین ادارہ بنانے کی کامیاب حکومتی حکمت عملی کے اثرات بھی شامل ہیں۔
بھارتی کرکٹر کا خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ
وزیراعظم نے ٹیکس چوری روکنے، تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار موثر انداز میں ختم کرنے کے لیے انتظامی اور اداراجاتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایف بی آر سمیت فنانس کی پوری ٹیم کو شاباش دی اور زور دیا کہ اصلاحات کے عمل پر موثر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ پاکستان معاشی مشکلات کے گرداب سے نجات پائے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حقیقی طورپر پورا کرنے میں کامیاب ہو۔
شوکت خانم ہسپتال کا فراڈ سی ای او گرفتار
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
کلچر کب تہذیب بنتا ہے
سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔
ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔
سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔
تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔
ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔
تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔
آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔
تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔