data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیرف اصلاحات کی بدولت ٹیکس نظام میں مثبت رجحانات ہیں، یہ رججان ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہتر بنانے کےاقدامات کےدرست ہونےکا ٹھوس ثبوت ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت ملکی ٹیکس نظام میں اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا جس میں ان کاکہناتھا کہ تازہ ترین معاشی اعدادوشمار حکومتی معاشی اصلاحات کو درست ثابت کررہے ہیں، معاشی ترقی کی رفتار ہردِن بہتر ہورہی ہے ،جس کے شواہد سامنے آرہے ہیں، رواں سال ٹیرف اصلاحات کا ریونیو وصولی پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوا۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال ٹیرف اصلاحات کا ریونیو وصولی پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوا، درآمدی سطح پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ بہتری قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.

6 فیصد اضافہ کے باوجود سامنے آئی، یہ خدشہ بھی غلط ثابت ہوا کہ ٹیرف کم کرنے سے ریونیو وصولی میں کمی ہوگی، ڈیوٹی فری امپورٹس میں 41.5 فی صد اضافہ ہوا ہے ، معاشی اصلاحات سرمایہ کاری کیلئےماحول زیادہ سازگار بنانے کیلئے ہیں۔

وزیراعظم نے تمباکو، ٹائلز سمیت بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی نظام کی خامیاں دور کرنے کرنے کی ہدایت کی جبکہ ایف بی آر سمیت پوری معاشی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے اصلاحات میں مزید تیزی کی ہدایت کی ۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ