وزیراعظم کی تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں سے ٹیکس وصولی میں موجود خامیاں دور کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم نے ٹیکس چوری روکنے، تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار موثر انداز میں ختم کرنے کے لیے انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی ٹیکس نظام میں اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات، مثبت رجحانات اور ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کے درست ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے، تازہ ترین معاشی اعدادوشمار، حکومتی معاشی اصلاحات کو درست ثابت کررہے ہیں جن کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار ہر دِن بہتر ہورہی ہے جس کے شواہد بھی کاروباری برادری اور قوم کے سامنے آرہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال ہونے والی ٹیرف اصلاحات کا کوئی منفی اثر ریونیو وصولی پر مرتب نہیں ہوا بلکہ درآمدی سطح پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ اضافہ قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.
بریفنگ میں کہا گیا کہ ٹیرف میں کمی اور ٹیکس نظام کی بہتری سمیت جاری معاشی اصلاحات کا مقصد مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو اور بھی زیادہ سازگار بنایا جائے۔
بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی فری امپورٹ کے زمرے میں آنے والی اشیاء کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو حکومت کی ٹیرف کو معقول بنانے کے اقدامات کے موثر ہونے کی علامت ہے جس کا مقصد خام مال اور ثانوی درجے میں آنے والی اشیاء کی درآمد کے بڑھنے کی وجہ سے ہے، ٹیرف اصلاحات کا مقصد یہ تھا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں استعمال ہونے والے خام اجزا کی قیمت میں کمی آئے تاکہ ملکی برآمدات کا حجم بڑھے اور عالمی منڈی میں مسابقت ممکن ہوسکے۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ تازہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی کامیاب رہی ہے، کسٹم اصلاحات سے حاصل ہونے والے نتائج میں ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہترین ادارہ بنانے کی کامیاب حکومتی حکمت عملی کے اثرات بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم نے ٹیکس چوری روکنے، تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار موثر انداز میں ختم کرنے کے لیے انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ایف بی آر سمیت فنانس کی پوری ٹیم کو شاباش دی اور زور دیا کہ اصلاحات کے عمل پر موثر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ پاکستان معاشی مشکلات کے گرداب سے نجات پائے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حقیقی طورپر پورا کرنے میں کامیاب ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بریفنگ میں ایف بی آر اور دیگر
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔