معاشی بحالی کا سفر ناگزیر,اصلاحات پر موثر عمل درآمد تیز کیا جائے ،وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 15 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم نے ٹیکس چوری روکنے، تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار موثر انداز میں ختم کرنے کے لیے انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی ٹیکس نظام میں اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات، مثبت رجحانات اور ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کے درست ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے، تازہ ترین معاشی اعدادوشمار، حکومتی معاشی اصلاحات کو درست ثابت کررہے ہیں جن کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار ہر دِن بہتر ہورہی ہے جس کے شواہد بھی کاروباری برادری اور قوم کے سامنے آرہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال ہونے والی ٹیرف اصلاحات کا کوئی منفی اثر ریونیو وصولی پر مرتب نہیں ہوا بلکہ درآمدی سطح پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فی صد اضافہ ہوا ہے۔وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ اضافہ قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.

6 فی صد اضافہ کے باوجود سامنے آیا ہے جس سے یہ خدشہ بھی غلط ثابت ہوا کہ ٹیرف کم کرنے سے ریونیو وصولی میں کمی ہوجائے گی،

ڈیوٹی فری امپورٹس میں 41.5 فی صد اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ درآمدات میں بڑا اضافہ ان مصنوعات میں ہوا ہے جو خام مال اور انٹرمیڈیٹ کے درجے میں آتی ہیں اسے نچلی سطح پر پیداواری اثرات میں نمایاں بہتری کی علامت قرار دیا جاسکتا ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ ٹیرف میں کمی اور ٹیکس نظام کی بہتری سمیت جاری معاشی اصلاحات کا مقصد مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو اور بھی زیادہ سازگار بنایا جائے۔بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی فری امپورٹ کے زمرے میں آنے والی اشیا کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو حکومت کی ٹیرف کو معقول بنانے کے اقدامات کے موثر ہونے کی علامت ہے جس کا مقصد خام مال اور ثانوی درجے میں آنے والی اشیا کی درآمد کے بڑھنے کی وجہ سے ہے

، ٹیرف اصلاحات کا مقصد یہ تھا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں استعمال ہونے والے خام اجزا کی قیمت میں کمی آئے تاکہ ملکی برآمدات کا حجم بڑھے اور عالمی منڈی میں مسابقت ممکن ہوسکے۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ تازہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی کامیاب رہی ہے، کسٹم اصلاحات سے حاصل ہونے والے نتائج میں ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہترین ادارہ بنانے کی کامیاب حکومتی حکمت عملی کے اثرات بھی شامل ہیں۔وزیراعظم نے ٹیکس چوری روکنے، تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار موثر انداز میں ختم کرنے کے لیے انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایف بی آر سمیت فنانس کی پوری ٹیم کو شاباش دی اور زور دیا کہ اصلاحات کے عمل پر موثر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ پاکستان معاشی مشکلات کے گرداب سے نجات پائے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حقیقی طورپر پورا کرنے میں کامیاب ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور بنگلا دیش کے مسلمان ایک قوت، جماعت اور امت ہیں: مولانا فضل الرحمان پاکستان اور بنگلا دیش کے مسلمان ایک قوت، جماعت اور امت ہیں: مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخوا میں دہشت گردی خود ساختہ ہے، وزیراعلی سہیل آفریدی صدر ٹرمپ کا بی بی سی پر 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مقدمہ کرنے کا اعلان پاکستان سپر لیگ میں مزید 2 نئی ٹیموں کی فروخت کا عمل شروع، متوقع نام بھی سامنے آگئے حیدرآباد: غیر قانونی آتش بازی کا سامان بنانے والے کارخانے میں دھماکے، 4 افراد جاں بحق، 5 زخمی اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے،صدر اور وزیر اعظم کا ایئر پورٹ پر استقبال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف