پاکستان میں اقتصادی استحکام کے سنہری دور کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پاکستان میں اقتصادی استحکام کے سنہری دور کا آغاز ہوگیا ہے جس کے تحت وسیع پیمانہ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی جریدہ بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا اعلان کر دیا ہے۔
عالمی جریدہ بلومبرگ کے مطابق پاکستان میں ڈالر بانڈز کی قدر میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ رواں سال 24.
بلومبرگ نے بتایا کہ پاکستان پچھلے دو سال کی بنسبت اب عالمی قرض مارکیٹ میں واپسی کے لیے تیار ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل اور فچ ریٹنگز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کی، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت ملی۔
اگلے 6 سے 12 ماہ میں عالمی ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مارکیٹ تک رسائی پاکستان کی معاشی بحالی کے محرکات میں شامل ہیں۔ ادارے نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی مؤثر معاشی اصلاحات اور کاوشوں سے عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونا قابل ستائش ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔