کشمیریوں کو انسانیت اور جمہوریت کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، میرواعظ عمر فاروق
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
میرواعظ کشمیر نے کہا کہ میں اور جن تمام سیاسی و مذہبی تنظیموں سے میرا تعلق ہے، ہمیشہ ہر قسم کے تشدد اور دہشتگردی کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے حالیہ دلی بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حقائق سامنے آنے سے قبل ایسے سانحات کو میڈیا کی جانب سے "ان سائیڈ سورسز" کی مدد سے سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے جو ایک ایسے بیانیے کو ہوا دیتا ہے جو فوراً اسے ایک مخصوص مذہب یا کمیونٹی کے ساتھ جوڑنے اور انہیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہمارے بچے اور نوجوان جو ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں تعلیم یا روزگار کے لئے مقیم ہیں یکایک مشکوک قرار پاتے ہیں، اپنی حفاظت کے حوالے سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور یہاں گھر والوں میں بھی شدید بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
ایک دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق کہا کہ دہلی میں ہوا حالیہ بم دھماکہ نہایت تکلیف دہ واقعہ ہے جس میں 12 بے گناہ لوگ جو اپنے روز مرہ کے معمولات میں مصروف تھے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور متعدد لوگ شدید زخمی ہوئے۔ میرواعظ نے کہا کہ میں اور جن تمام سیاسی و مذہبی تنظیموں سے میرا تعلق ہے، ہمیشہ ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ اانہون نے کہا کہ کشمیری عوام سب سے زیادہ ایسے سانحات کا درد محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ خود دہائیوں سے ایسے دکھ اور دردسے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جو کچھ ہوا کوئی مقصد کتنا ہی درست کیوں نہ ہو، اسے اس طرح کی تشدد آمیز کارروائیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک مسائل کے حل کا بہترین راستہ مکالمہ ہے ایک دوسرے سے احترام کے ساتھ بات کرنا اور سننا تاکہ پل باندھے جا سکیں۔ میرواعظ نے کہا کہ فیصلہ سازی کے ذمہ دار اداروں اور حکام سے میری گزارش ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے صرف سکیورٹی اور لا اینڈ آرڈر کے زاویے سے نمٹنے کے اپنے طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں اور جیسا کہ سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی جی نے کہا تھا، کشمیر کو انسانیت اور جمہوریت کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اختیار میں ہے کہ وہ اس پر توجہ دیں یا اسے نظر انداز کریں، جہاں تک ہمارا تعلق ہے، بہتر کی امید اور اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی ہمارا سہارا ہے۔
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ جامع مسجد کا منبر و محراب لوگوں کی آواز کا نمائندہ ہے اور کشمیر کے لوگ اس وقت انتہائی بے اختیاری اور مایوسی سے دوچار ہیں، جبکہ بنیادی مسئلہ بدستور حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کو دی گئی آئینی خود مختاری بھی اگست 2019ء میں چھین لی گئی، جب ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا اور زمین و روزگار کے حقوق بھی ان سے واپس لے لئے گئے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی، ہر وقت نگرانی کا ماحول، ملازمت سے من مانے انداز میں برطرف کئے جانے اور زمین و جائیداد ضبط کئے جانے کا اندیشہ، تحقیقاتی ایجنسیوں کے مسلسل چھاپے اور گرفتاریوں نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میرواعظ عمر فاروق انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
ویب ڈیسک : آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کےگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائےگا۔
I’m grateful to the AJK PPP for their efforts & the election commission of AJK for their intervention. I’m hearing internet and digital connectivity will be restored in Mirpur AJK soon. I’m hopeful our requests for Muzaffrabad and other areas are also accepted as soon as…
— Bilawal Bhutto Zardari (@BBhuttoZardari) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
واضح رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
Ansa Awais Content Writer