میرواعظ کشمیر نے کہا کہ میں اور جن تمام سیاسی و مذہبی تنظیموں سے میرا تعلق ہے، ہمیشہ ہر قسم کے تشدد اور دہشتگردی کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے حالیہ دلی بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حقائق سامنے آنے سے قبل ایسے سانحات کو میڈیا کی جانب سے "ان سائیڈ سورسز" کی مدد سے سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے جو ایک ایسے بیانیے کو ہوا دیتا ہے جو فوراً اسے ایک مخصوص مذہب یا کمیونٹی کے ساتھ جوڑنے اور انہیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہمارے بچے اور نوجوان جو ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں تعلیم یا روزگار کے لئے مقیم ہیں یکایک مشکوک قرار پاتے ہیں، اپنی حفاظت کے حوالے سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور یہاں گھر والوں میں بھی شدید بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

ایک دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق کہا کہ دہلی میں ہوا حالیہ بم دھماکہ نہایت تکلیف دہ واقعہ ہے جس میں 12 بے گناہ لوگ جو اپنے روز مرہ کے معمولات میں مصروف تھے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور متعدد لوگ شدید زخمی ہوئے۔ میرواعظ نے کہا کہ میں اور جن تمام سیاسی و مذہبی تنظیموں سے میرا تعلق ہے، ہمیشہ ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ اانہون نے کہا کہ کشمیری عوام سب سے زیادہ ایسے سانحات کا درد محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ خود دہائیوں سے ایسے دکھ اور دردسے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں جو کچھ ہوا کوئی مقصد کتنا ہی درست کیوں نہ ہو، اسے اس طرح کی تشدد آمیز کارروائیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک مسائل کے حل کا بہترین راستہ مکالمہ ہے ایک دوسرے سے احترام کے ساتھ بات کرنا اور سننا تاکہ پل باندھے جا سکیں۔ میرواعظ نے کہا کہ فیصلہ سازی کے ذمہ دار اداروں اور حکام سے میری گزارش ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے صرف سکیورٹی اور لا اینڈ آرڈر کے زاویے سے نمٹنے کے اپنے طرزِ عمل پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں اور جیسا کہ سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی جی نے کہا تھا، کشمیر کو انسانیت اور جمہوریت کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے اختیار میں ہے کہ وہ اس پر توجہ دیں یا اسے نظر انداز کریں، جہاں تک ہمارا تعلق ہے، بہتر کی امید اور اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی ہمارا سہارا ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ جامع مسجد کا منبر و محراب لوگوں کی آواز کا نمائندہ ہے اور کشمیر کے لوگ اس وقت انتہائی بے اختیاری اور مایوسی سے دوچار ہیں، جبکہ بنیادی مسئلہ بدستور حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کو دی گئی آئینی خود مختاری بھی اگست 2019ء میں چھین لی گئی، جب ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا اور زمین و روزگار کے حقوق بھی ان سے واپس لے لئے گئے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی، ہر وقت نگرانی کا ماحول، ملازمت سے من مانے انداز میں برطرف کئے جانے اور زمین و جائیداد ضبط کئے جانے کا اندیشہ، تحقیقاتی ایجنسیوں کے مسلسل چھاپے اور گرفتاریوں نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میرواعظ عمر فاروق انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی