ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے فوائد عوام تک نہ پہنچ سکیں، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عوام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے موقع پر اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان کو ایسی جمہوریت کی قطعی ضرورت نہیں ہے جس کے ثمرات ملک کے عام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔
انہوں نے حکمران طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مفادات عوامی مفادات سے براہِ راست متصادم ہیں اور یہ امر ملک میں ایک غیر متوازن سیاسی اور معاشی ڈھانچہ پیدا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے صوبائی خودمختاری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس سے کہیں زیادہ اہم عوام کی خودمختاری ہے، جسے یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے 18 ویں ترمیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد بلاشبہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی تھا، مگر عملی طور پر یہ طاقت کے ارتکاز کا سبب بن گئی ہے، جس نے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے میں آرٹیکل 140-اے کی وضاحت کی حمایت کرتے ہوئے اسے من و عن لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ان عناصر کو جمہوریت اور عوام کا دشمن قرار دیا جو آئین کے اس اہم آرٹیکل کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ آرٹیکل 140-A کی مخالفت دراصل آئینِ پاکستان کی توہین کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی کرتے ہوئے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔