ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عوام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے موقع پر اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان کو ایسی جمہوریت کی قطعی ضرورت نہیں ہے جس کے ثمرات ملک کے عام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔

انہوں نے حکمران طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مفادات عوامی مفادات سے براہِ راست متصادم ہیں اور یہ امر ملک میں ایک غیر متوازن سیاسی اور معاشی ڈھانچہ پیدا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے صوبائی خودمختاری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس سے کہیں زیادہ اہم عوام کی خودمختاری ہے، جسے یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

انہوں نے 18 ویں ترمیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد بلاشبہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی تھا، مگر عملی طور پر یہ طاقت کے ارتکاز کا سبب بن گئی ہے، جس نے ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے میں آرٹیکل 140-اے کی وضاحت کی حمایت کرتے ہوئے اسے من و عن لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی ان عناصر کو جمہوریت اور عوام کا دشمن قرار دیا جو آئین کے اس اہم آرٹیکل کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ آرٹیکل 140-A کی مخالفت دراصل آئینِ پاکستان کی توہین کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی کرتے ہوئے

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار