پرنسپل کی مبینہ جنسی ہراسانی پر 15 سالہ طالبہ نے اسکول میں خودکشی کر لی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
چھتیس گڑھ کے ضلع جشپور میں 15 سالہ طالبہ نے پرنسپل پر چھیڑ چھاڑ اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے کے بعد اسکول کے اسٹڈی روم میں پھانسی لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جشپور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ششی موہن سنگھ نے بتایا کہ اسکول باغیچہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ہے جبکہ متاثرہ لڑکی پڑوسی ضلع سرگوجہ کے علاقہ سیتا پور کی رہائشی تھی۔
پولیس کے مطابق نویں جماعت کی یہ طالبہ ایک نجی اسکول کے اسٹڈی روم میں ساڑی کے ذریعے چھت سے لٹک کر جان دے بیٹھی۔ واقعے کے فوراً بعد پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک سوسائیڈ نوٹ بھی ملا جس میں پرنسپل کو جنسی ہراسانی اور دست درازی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دیں۔
واقعے کے بعد انویسٹیگیشن ٹیم نے اسکول میں تحقیقات کیں۔ ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اسکول کیمپس میں قائم ہوسٹل غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا۔
ابتدائی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسکول میں چھٹی سے بارہویں جماعت تک 124 طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں سے 22 لڑکے اور 11 لڑکیاں ہوسٹل میں رہ رہی تھیں جبکہ ہوسٹل کے لیے لازمی اجازت نامے موجود نہیں تھے۔
باغیچہ کے اسسٹنٹ کمشنر پردیپ رتھیا کے مطابق واقعے کی وجوہات کا حتمی تعین تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ اس سلسلے میں مجسٹریل انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔