اسلام آباد: مساج سینٹر میں لڑکی پر تشدد اور بلیک میلنگ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251125-08-5
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد میں تھانہ لوئی بھیر کے علاقے میں نوجوان لڑکی پر تشدد کا سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے ایک مساج سینٹر میں لڑکی پر مبینہ تشدد اور بلیک میلنگ کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ مبینہ طور پر مساج سینٹر کے مالکان اور بااثر افراد نے نوجوان لڑکی پر تشدد کیا، تشدد کے دوران لڑکی کے بال کاٹ کر گنجا کردیا گیا۔ ایس ایس پی آپریشن نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے 2 خواتین سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا، خاتون لوہی بھیر کے علاقے میں سیلون پر ملازمہ تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیلون کے تمام ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے، گرفتار عملے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لڑکی پر
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔