لاہور:

اسموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے جامعہ پنجاب کی انسپیکشن اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں بند کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے ناصر باغ، درختوں کی ٹرانسپلانٹیشن، پارکنگ پراجیکٹس اور ماحولیاتی معاملات پر سخت سوالات اٹھائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ کا کیا معاملہ ہے اور بار بار کے عدالتی احکامات کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ انہیں موصول ہونے والی تصاویر میں درخت کٹے ہوئے نظر آرہے ہیں جبکہ ناصر باغ کی تاریخی اہمیت بھی ہے۔

پی ایچ اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی درخت نہیں کاٹا گیا بلکہ 123 میں سے 121 درخت ٹرانسپلانٹ ہو سکتے تھے، صرف دو درختوں کی ہلکی سی ٹرمنگ کی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ وہاں انڈر گراؤنڈ پارکنگ بن رہی ہے اور پراجیکٹ عدالت کی ہدایات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ ایک تھرڈ پارٹی این جی او بھی ساتھ شامل ہے۔ عدالت نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو حکم دیا کہ آج ہی موقع کا دورہ کرکے رپورٹ جمع کروائیں۔

سماعت کے دوران ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ لاہور کینال کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں درخت کاٹے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ سات سال سے سول کورٹس کے باہر پارکنگ کے مسئلے کے حل کے احکامات دیے جا رہے تھے اور اب حکومت ان پر عمل کر رہی ہے جو قابلِ تعریف ہے، تاہم یہ سلسلہ پورا سال جاری رہنا چاہیے تاکہ اسموگ جیسے مسائل بہتر طور پر حل ہو سکیں۔

این جی او نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ سات برس سے بوہڑ کے درختوں کی منتقلی پر کام کر رہے ہیں اور کینٹ میں بھی ایک بڑا درخت انہوں نے بچایا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ میں چھ سے سات بڑے بوہڑ کے درخت موجود ہیں، جن کی منتقلی میں این جی او نے چھ سے سات دن کام کیا۔ عدالت نے پیشکش کی کہ اگر این جی او چاہے تو ہائیکورٹ کے درختوں کا کام بھی انہیں دے دیا جائے۔

این جی او نے بتایا کہ ایک درخت کی منتقلی پر چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور اب لوگ درختوں کو اڈاپٹ بھی کرنے لگے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ناصر باغ میں میاواکی پراجیکٹ بھی لایا جائے اور باغ کو بحال کیا جائے۔

اسکول بسوں کے حوالے سے عدالت نے عدم عمل درآمد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ پنجاب کی بسیں دھواں چھوڑ رہی ہیں، لہٰذا جامعہ پنجاب کی انسپیکشن کی جائے اور دھواں چھوڑنے والی تمام گاڑیاں بند کر دی جائیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ اسکولوں کو ایک ساتھ زیادہ بسیں خریدنے کا نہ کہا جائے بلکہ آہستہ آہستہ آغاز کیا جائے، جبکہ چھوٹے اسکولوں کو خریداری کی شرط سے نکال کر انہیں کنٹریکٹرز سے گاڑیاں حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔

واسا سے متعلق عدالت نے کہا کہ واسا اب بہت امیر ہو چکا ہے اور پوچھا کہ پانی کے میٹرز کا کیا بنا۔ واسا کے وکیل نے بتایا کہ تیرہ سو میٹرز پروکیور ہو چکے ہیں، جن میں سے 260 میٹر جوہر ٹاؤن میں نصب کیے جا چکے ہیں، اور یہ تمام میٹرز امپورٹڈ ہیں۔ پانچ سو ملین روپے کا فنڈ اس مقصد کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پہلے کمرشل علاقوں میں میٹرز لگائے جائیں۔ واسا نے بتایا کہ اس وقت پائلٹ پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے تاکہ ڈیٹا کولیکشن کا جائزہ لیا جا سکے۔

عدالت نے کہا کہ جب پورے شہر میں میٹرز لگ جائیں گے تو لوگ خود بخود پانی بچائیں گے۔ عدالت نے ڈی ایچ اے کی جانب سے پہلے ہی میٹرز نصب کرنے کے اقدام کو سراہا اور واسا کو لاہور کے تازہ ترین ایکیوفر لیول کی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ زیرِ زمین پانی مزید نیچے تو نہیں جا رہا۔

عدالت نے واضح کیا کہ پارکس میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تعمیراتی سرگرمی ماحول دوست نہیں ہوتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدالت نے کہا کہ جامعہ پنجاب کی نے بتایا کہ ہے اور

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان