کراچی: بن قاسم موڑ کے قریب آگ، درخت اور گھریلو سامان جل کر خاکستر
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی کے علاقے پورٹ قاسم، بن قاسم موڑ کے قریب جمعہ کی صبح لگنے والی آگ نے درختوں، ایک گھر اور اسکریپ کے پرانے گودام کو لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں گھریلو سامان سمیت متعدد درخت جل کر خاکستر ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق درختوں میں آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ کی دو گاڑیاں فوری طور پر موقع پر روانہ کی گئیں۔ ترجمان فائربریگیڈ کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز نے تقریباً ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اسکریپ کے پرانے گودام میں نشے کے عادی افراد موجود تھے اور غالب امکان ہے کہ انہی میں سے کسی کی لاپرواہی کے باعث آگ بھڑکی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی۔ شعلے گودام سے نکل کر قریبی درختوں اور ایک رہائشی گھر تک پہنچ گئے۔
حادثے میں گھر کا قیمتی سامان جل گیا جبکہ گودام پہلے ہی خالی تھا۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔