وزیراعظم کا کنڈی کو نہ ہٹانے کا اشارہ، خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا رپورٹس میں ممکنہ برطرفی کی خبروں کے دوران جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، تاکہ صوبے سے متعلق امور، بشمول گورنر راج کے نفاذ، پر بات چیت کی جا سکے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم آفس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ وزیر اعظم نے فیصل کریم کنڈی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اشارہ دیا کہ حکومت انہیں ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
ملاقات میں خیبر پختونخوا سے متعلق اہم انتظامی معاملات اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وفاقی وزیر برائے کشمیر امور انجینئر امیر مقام اور وفاقی وزیر برائے پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال بھی موجود تھے۔
چند روز قبل گورنر نے اپنی برطرفی کی خبروں کی تردید کی تھی، لیکن کہا تھا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے کسی بھی فیصلے کو قبول کریں گے۔
ملاقات میں گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، کیوں کہ مبینہ طور پر خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا مرکز، مسلح افواج اور بیوروکریسی کے حوالے سے سخت مؤقف ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعظم سے یہ درخواست بھی کی کہ قومی مالیاتی کمیشن کے آئندہ ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حصہ فراہم کیا جائے۔
اس سے قبل وزیر اعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ نجی شعبے کی تجاویز کو ایک متحد صنعتی پالیسی میں ضم کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔
انہوں نے صنعتی ترقی سے متعلق نجی شعبے کی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ماہرین کی سفارشات کو بلا تاخیر قابلِ عمل اصلاحات میں بدلنا چاہتی ہے۔
وزیر اعظم شہباز نے سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری نے صنعتی ترقی کے لیے نہایت جامع تجاویز تیار کی ہیں، جو قابلِ تعریف ہیں، اور مزید کہا کہ ان تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد عملدرآمد کا منصوبہ مرتب کیا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ یہ تجاویز معیشت کے دیگر شعبوں کی سفارشات کے ساتھ یکجا کی جائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، وزیر اعظم کے مشیر محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر، اور صنعتی ورکنگ گروپ کے ارکان(جن کی قیادت ثاقب شیرازی کر رہے تھے) نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔