اس وقت صرف اپنی گارنٹی پر عمران خان سے ملاقات کرواسکتاہے، زاہد گشکوری نے نام بھی بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) عمران خان کی فیملی اور پارٹی قائدین اڈیالہ جیل میں پارٹی بانی سے ملاقات نہ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں ، ایسے میں صحافی زاہد گشکوری نے کہا ہےکہ اس وقت صرف ایک ہی شخص بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کرواسکتا ہے اور وہ علی امین گنڈا پور ہیں۔
اپنے فیس بک پیج پر زاہد گشکوری نے لکھا کہ " اگر اسوقت کوئی اپنی ضمانت کی بنیاد پر بہنوں کی عمران خان سے ایک ملاقات کراسکتا ہے تو پی ٹی آئی میں وہ صرف ایک ہی شخص ہے، جی ہاں علی امین گنڈاپور،حکومت اور مقتدر حلقوں کو یہ 100 فیصد گارنٹی چاہیے کہ جو شخص بھی عمران خان سے ملاقات کریگا وہ اس میٹنگ پر میڈیا سے بات کریگا نہ ہی اس ملاقات کا احوال عمران خان اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر آئے گا"
ایشیز سیریز: آسٹریلیا کا دوسرے ٹیسٹ کیلئے سکواڈ کا اعلان
انہوں نے مزید لکھا کہ صرف اور صرف یہ عمران خان سے ایک گارنٹی درکار ہے جو کوئی دینے کو تیار ہے اور نہ ہی یہ عمران خان کا سوشل میڈیا کا کنٹرول کسی کے اختیار میں ہے، شاید علیمہ خان کے اختیار میں بھی نہیں۔
نیب میں گریڈ 18 کے 29 افسران کو گریڈ 19 میں ترقی دے دی گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سے ملاقات
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔