پنجاب میں ویسٹ سے بجلی بنانے کا منصوبہ؛ غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
پنجاب میں مویشیوں کے فضلے سے توانائی پیدا کرنے کے پراجیکٹ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جاپانی ادارے اور برطانوی و چینی کمپنیوں نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی غیرملکی وفود سے ملاقات ہوئی جس میں ایل ڈبلیو ایم سی کے سی ای او بابر صاحب دین اور محکمہ توانائی کے افسروں نے شرکت کی۔ پاک سوزوکی کے سی ای او ہیروشی نے وامُورا کی صوبائی وزیر کو منصوبے پر بریفنگ دی۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا کہنا تھا کہ جاپانی کمپنی کی ویسٹ سے بائیوگیس بنانے کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ستھرا پنجاب کے تحت مویشیوں کا ویسٹ بڑی مقدار میں جمع ہوتا ہے۔ پاکستان میں 2040 تک 9 ہزار بائیوفیول پلانٹس لگانے کا منصوبہ خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ بائیوفیول کے استعمال سے کاربن گیس کے اخراج میں 20 فیصد کمی ہوگی۔ جاپانی کمپنی جدید ٹیکنالوجی سے 2030 تک 1500 پلانٹس لگانا چاہتی ہے جبکہ پاک سوزوکی مویشی پالنے والے حضرات کو گوبر کی قیمت ادا کرنے پر بھی تیار ہے۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ انرجی امپورٹ بل میں 2040 تک 1625 ملین ڈالر کمی متوقع ہے۔ جاپانی کمپنی کا منصوبہ وزیراعلی مریم نواز کے حالیہ دورہ جاپان کا تسلسل ہے۔ صوبائی وزیر نے پاک سوزوکی سے منصوبے کی ٹائم لائن بھی طلب کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔