ظلم نہیں، عدل و انصاف کی حکومت
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
دنیا کا کوئی معاشرہ انصاف، مساوات اور امن کے بغیر پائیدار نہیں رہ سکتا۔ ظلم نہ صرف افراد کے دل جلا دیتا ہے بلکہ پورے سماج کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو عدل و انصاف کو اپناتی ہیں، اور وہ قومیں زوال پاتی ہیں جو ظلم اور جبر کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو عدل، احسان اور انسانیت کا علم بردار ہے۔
قرآن مجید اور احادیث میں عدل کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد کی زندگی کا اصول ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’ظلم سے بچو، کیوں کہ یہ قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔‘‘ ظلم کی مختلف شکلیں معاشی، سماجی، سیاسی اور روحانی ہو سکتی ہیں، جیسے دولت کا چند ہاتھوں میں سمٹنا، ذات پات کی بنیاد پر تفریق، حکمرانوں کا ذاتی مفاد کے لیے قانون کو مروڑنا، یا شرک اور بدعات میں مبتلا ہونا۔
ظلم معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اعتماد، محبت اور بھائی چارہ ختم ہو جاتے ہیں، اور نظام زندگی بکھر جاتا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ’’ریاست کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔‘‘
اسلام میں عدل کے ساتھ احسان کا بھی حکم ہے۔ ہر شخص کو اس کا حق دینا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء)
ظلم کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات، تعلیم اور شعور کی بیداری ضروری ہیں۔ عدالتی نظام کو مضبوط بنانا، علماء، دانشور اور صحافیوں کو سچ بولنے کی ہمت دینا، اور ہر فرد کا انصاف پر قائم رہنا معاشرتی استحکام کے لیے لازمی ہے۔ ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے۔
اسلامی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ معاشرہ ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ پائیدار، برابری، احترام اور امن کا ضامن ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور عدل کی گواہی دو۔‘‘ (المائدہ) عدل و احسان کا نظام ہی حقیقی امن اور کامیابی کی بنیاد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انصاف پر کے ساتھ کے لیے ظلم کے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔