آلٹرن انرجی کی حکومت اور CPPA کیساتھ اہم معاہدے ختم کرنے کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (بزنس رپورٹر )روش (پاکستان) پاور لمیٹڈ یل) کی مرکزی کمپنی آلٹرن انرجی لمیٹڈ (اے ای ایل) نے وفاقی حکومتِ اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹی) لمیٹڈ کے ساتھ اختتامی معاہدے(ٹی اے)شروع کر دیے ہیں، جو موجودہ معاہدوں کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کمپنی نے بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا کہ ٹی اے پر عمل درآمد متعلقہ حکام سے تمام مطلوبہ منظوری حاصل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔نوٹس کے مطابق اے ای ایل نے 24 نومبر 2025 کو ابتدائی طور پر معاہدے پر دستخط کیے، جو مناسب وقت پر اے ای ایل، صدرِ پاکستان اور سی پی پی اے، جی کے ذریعے باقاعدہ نافذ کیا جائے گا۔نوٹس میں کہا گیا کہ ٹی اے کے تمام فریقین کو ضروری منظوری حاصل کر کے اسے جلد از جلد نافذ اور فراہم کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔معاہدے کے تحت وفاق کے ساتھ کیا گیا عمل درآمد کا معاہدہ (عملدرآمد معاہدہ اے آئی)، حکومت کی طرف سے جاری کی گئی گارنٹی، سی پی پی اے جی کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ساتھ کیا گیا گیس سپلائی ایگریمنٹ (جی ایس اے ) متعلقہ فریقین کی باہمی رضامندی سے ختم ہو جائیں گے۔نوٹس میں مزید کہا گیا کہ ٹی اے کے حصے کے طور پر اے ای ایل آر آیل این جی کی متفرق قیمتوں سے متعلق 40 ملین روپے کے دعوے سے دستبردار ہو جائے گی۔مارچ میں اے ای ایل نے سی پی پی اے جی سے پی پی اے کی قبل از وقت خاتمے کے لیے بھی درخواست دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے ای ایل پی پی اے کے ساتھ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔