Islam Times:
2026-06-02@23:25:53 GMT

صیہونی رژیم کا ریڈ لائن سے عبور

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

صیہونی رژیم کا ریڈ لائن سے عبور

اسلام ٹائمز: بیروت پر غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ حملوں کے بعد حزب اللہ لبنان کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے "نئی ریڈ لائن" سے عبور کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ کے اس مرکزی رہنما کی ٹارگٹ کلنگ کے جواب میں انتقامی کاروائی کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔" دوسری طرف لبنان کے حکومتی عہدیدار تناو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اس مقصد کے لیے لبنانی صدر جوزف عون نے عالمی برادری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ لبنان اور لبنانی عوام پر غاصب صیہونی رژیم کی فوجی جارحیت روکنے کے لیے موثر اقدامات انجام دیں۔ لبنانی صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو خطہ ایک بار پھر جنگ کی آگ میں جل اٹھے گا۔ لیکن صیہونی حکمران حزب اللہ کے خلاف جنگ کا چوتھا مرحلہ شروع کرنے کے رجز پڑھ رہے ہیں۔ تحریر: سید رضا حسینی
 
نومبر 2024ء کی جنگ بندی کے بعد حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ ناکام ہو جانے کے بعد اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے ایک بار پھر اسلامی مزاحمت کے رہنماوں کی ٹارگٹ کلنگ کا رخ کیا ہے۔ اس سلسلے میں اتوار 23 نومبر 2025ء کے دن بیروت کے جنوبی محلے ضاحیہ پر صیہونی رژیم کا ایک میزائل حملہ انجام پایا جس میں حزب اللہ لبنان کے ایک اعلی سطحی کمانڈر ہیثم طباطبائی سمیت کئی افراد شہید ہو گئے۔ لبنانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صیہونی طیاروں نے ایک 9 منزلہ عمارت کے تیسرے اور چوتھے فلور کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا جو حزب اللہ لبنان کے سیکنڈ پرسن ہیثم طباطبائی کی رہائش گاہ تھی۔ حملے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی حزب اللہ لبنان نے اپنے بیانیے میں ہیثم طباطبائی کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ یہ حملہ خزاں 2024ء کی جنگ بندی کے بعد بیروت پر پہلا حملہ تھا۔
 
نئی جنگ کی جانب
بیروت پر غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ حملوں کے بعد حزب اللہ لبنان کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے "نئی ریڈ لائن" سے عبور کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ کے اس مرکزی رہنما کی ٹارگٹ کلنگ کے جواب میں انتقامی کاروائی کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔" دوسری طرف لبنان کے حکومتی عہدیدار تناو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اس مقصد کے لیے لبنانی صدر جوزف عون نے عالمی برادری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ لبنان اور لبنانی عوام پر غاصب صیہونی رژیم کی فوجی جارحیت روکنے کے لیے موثر اقدامات انجام دیں۔ لبنانی صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو خطہ ایک بار پھر جنگ کی آگ میں جل اٹھے گا۔ لیکن صیہونی حکمران حزب اللہ کے خلاف جنگ کا چوتھا مرحلہ شروع کرنے کے رجز پڑھ رہے ہیں۔
 
غیر مسلح کرنے پر اصرار
اتوار کے روز حزب اللہ لبنان کے اعلی سطحی فوجی کمانڈر کی صیہونی رژیم کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کی وجوہات جاننے کے لیے اس حقیقت پر توجہ ضروری ہے کہ لبنانی فوج اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لبنانی حکومت نے امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے شدید دباو کے تحت حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لیے پانچ مراحل پر مشتمل منصوبہ منظور کیا تھا جبکہ جوزف عون کی سربراہی میں لبنانی فوج نے امریکہ کو وعدہ دیا تھا کہ وہ موجودہ سال ختم ہونے تک دریائے لیتانی کا ساحلی علاقہ ہتھیاروں سے عاری کر دے گی۔ مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی کمان سینٹکام نے دعوی کیا ہے کہ لبنانی فوج نے گذشتہ چند ماہ کے دوران حزب اللہ کے 10 ہزار راکٹ، 400 میزائل اور 2 لاکھ 5 ہزار ہلکے ہتھیار لے کر ناکارہ بنا دیے ہیں۔
 
طویل جہاد
شہید ہیثم طباطبائی، لبنان میں غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مسلح اسلامی مزاحمت کی تشکیل کے ابتدائی سالوں سے ہی میدان جہاد میں حاضر تھے۔ حزب اللہ لبنان کو طاقتور بنانے میں ان کے اہم اور بنیادی کردار کے باعث امریکہ نے ان کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرنے پر 5 ملین ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔ 2015ء میں غاصب صیہونی رژیم نے دمشق میں ان پر قاتلانہ حملہ بھی کیا لیکن وہ بچ نکلے۔ اس حملے میں شہید عماد مغنیہ کے فرزند شہید جہاد مغنیہ شہید ہو گئے تھے۔ شہید ہیثم طباطبائی جو ابو علی کے نام سے جانے جاتے تھے، 2024ء کے آخر میں شہید فواد شکر کی جگہ حزب اللہ کے ملٹری ونگ کے سربراہ بن گئے۔ انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ لبنان کی طاقت دوبارہ بحال کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
 
لبنانی عوام نے اس عظیم مجاہد کی نماز جنازہ کے ساتھ ساتھ بیروت کے مرکز میں غاصب صیہونی رژیم کے خلاف وسیع احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا جو "الحمراء" روڈ پر کیا گیا تھا۔ اس مظاہرے میں ہر طبقے اور مذہب کے افراد شریک تھے اور وہ صیہونی دشمن کے خلاف مزاحمت پر مبنی ملت لبنان کے مسلمہ حق پر زور دے رہے تھے۔ حزب اللہ لبنان کے مجاہدین کو چاہیے کہ وہ عوامی حمایت کے بل بوتے پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اعلی سطح پر باقی رکھیں تاکہ غاصب صیہونی رژیم کو جنگ کا چوتھا مرحلہ شروع کرنے کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑے۔ اسی سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے بھی شہید ہیثم طباطبائی کی تسلیت پیش کرتے ہوئے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: "نیتن یاہو اس قدر مہم جوئی جاری رکھے گا کہ سب اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اس جعلی رژیم کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔"
 
شمالی محاذ پر ریڈ الرٹ
شہید ہیثم طباطبائی کی شہادت نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ پر غاصب صیہونی فوج میں ہلچل مچا دی ہے۔ عبری ذرائع ابلاغ کے بقول اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کی سرحد پر اپنا فضائی دفاعی نظام پوری طرح تیار کر دیا ہے تاکہ حزب اللہ لبنان کی جانب سے کسی بھی ممکنہ راکٹ یا میزائل حملے کا مقابلہ کر سکے۔ اسی طرح اسرائیلی فوج نے لبنان کی سرحد پر ہائی ریڈ الرٹ کر دیا ہے۔ دوسری طرف صیہونی رژیم کے فیصلہ ساز اس خوش گمانی کا شکار ہیں کہ حزب اللہ لبنان کے ساتھ ہونے والی جنگ زیادہ شدید نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر اسرائیل کے اہم اہم سیکورٹی ذریعے نے نام نہ لینے کی شرط پر الحدث سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ محض چند دن جنگ کے ذریعے حزب اللہ لبنان کو آئندہ چند سالوں کے لیے بہت زیادہ کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس نے مزید کہا: "افر اسرائیل اس سال کے آخر تک حزب اللہ کے خلاف کوئی فوجی اقدام نہ کرے تو وہ اسرائیل پر اچانک حملہ کر دے گی۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے بعد حزب اللہ لبنان پر غاصب صیہونی رژیم غاصب صیہونی رژیم کے شہید ہیثم طباطبائی حزب اللہ لبنان کے حزب اللہ لبنان کی حزب اللہ لبنان کو ہیثم طباطبائی کی کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے ٹارگٹ کلنگ کرنے کا کرنے کے کے خلاف کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان