Islam Times:
2026-06-03@02:23:18 GMT

شہید ابو علی کا راستہ جاری رہے گا، حزب اللہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

شہید ابو علی کا راستہ جاری رہے گا، حزب اللہ

پارلیمنٹ میں مزاحمت کے پارلیمانی بلاک کے سینئر رکن حسن عزالدین نے گزشتہ شب لبنان کی موجودہ صورتحال اور جاری صہیونی جارحیت کے حوالے سے کہا کہ ہم اس مجرمانہ دشمن کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، وہ اپنی کارروائیوں میں فوجی اور عام شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا، شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتا ہے، بے گناہ شہریوں کو قتل کرتا ہے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب‌ اللہ کے سینئر رکن حسن عزالدین نے کہا ہے کہ صہیونی دشمن کے لبنان پر تمام حملے امریکی اجازت اور ہم آہنگی سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بیروت کے ضاحیہ علاقے پر جارح صہیونی فوج کا وحشیانہ حملہ پورے لبنان پر حملہ تھا، اور مزاحمت شہید ابو علی اور اپنے تمام شہداء کے راستے کو آگے بڑھائے گی۔ 

لبنان کی پارلیمنٹ میں مزاحمت کے پارلیمانی بلاک کے سینئر رکن حسن عزالدین نے گزشتہ شب لبنان کی موجودہ صورتحال اور جاری صہیونی جارحیت کے حوالے سے کہا کہ ہم اس مجرمانہ دشمن کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، وہ اپنی کارروائیوں میں فوجی اور عام شہری کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا، شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتا ہے، بے گناہ شہریوں کو قتل کرتا ہے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔

انہوں نے ایک تعزیتی تقریب میں کہا کہ ہم نے ان تمام مظالم کو قریب سے دیکھا ہے، اور سب نے اپنی آنکھوں سے صہیونیوں کی یہ درندگی ملاحظہ کی ہے؛ خاص طور پر حالیہ غزہ کے واقعات کے بعد، جو انسانیت کے لیے شرم کا مقام ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی دشمن کسی پابندی کے بغیر، اور ایسی صورتحال میں کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش ہیں، انسانوں کے ساتھ اعداد و شمار کی طرح سلوک کرتا ہے اور کسی بھی جرم سے دریغ نہیں کرتا۔

حسن عزالدین نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر صہیونی حملے، جس میں حزب‌اللہ کے سینئر کمانڈر سید ہيثم علی طباطبائی (ابوعلی) شہید ہوئے، ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ مکمل جارحیت اور کھلی دہشت گردی تھی، یہ حملہ صرف حزب‌اللہ یا اس کی قیادت کو نہیں بلکہ پورے لبنان کو نشانہ بنا کر کیا گیا، کیونکہ اس میں لبنانی شہری بھی زد میں آئے۔

انہوں نے کہا کہ جب لبنانی شہری صہیونی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں تو ان کا ایک ریاست بھی ہے جس کا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کرے، سب جانتے ہیں کہ اسرائیل بغیر امریکی اجازت کے کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ اصل میں امریکہ اس کو مکمل آزادی دیتا ہے اور اس کا ایجنڈا طے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن لبنان کی مزاحمتی قوت کو کمزور کر سکے، تو وہ ہمارے ملک پر حملہ کرے گا—یہ حملہ اسی نام نہاد “گریٹر اسرائیل” منصوبے کا حصہ ہے جسے نتن یاہو نے خود ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2000 میں جب لبنانی مزاحمت نے صہیونیوں کو ذلت کے ساتھ لبنان سے نکالا، اور 2006 میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ناکام بنایا، تب سے اسرائیل ہر موقع پر لبنان سے انتقام لینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم نے حالیہ لڑائی میں اپنے بہت سے کمانڈروں اور مجاہدین کو کھویا ہے، لیکن ہم شکست نہیں کھائے اور نہ ہی کبھی تسلیم کریں گے۔ آج کوئی بھی ہمیں کمزور نہیں سمجھ سکتا، اور ہم کسی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لبنان میں ایک حقیقی قوم، ایک منصف اور طاقتور ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسی ریاست جو اپنے عوام اور ملک کا دفاع کر سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صہیونی دشمن آج جو دباؤ لبنان پر ڈال رہا ہے، وہ اس کی اگلی ناکامیوں کی تلافی کی کوشش ہے، کیونکہ پانچ فوجی ڈویژنز کے ساتھ زمینی جنگ میں بھی وہ کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مجاہدین نے جس طرح دشمن سے لڑائی کی ہے، تاریخ اسے سنہری حروف میں لکھے گی، امریکہ اب صہیونیوں کو کوئی کامیابی دلانے کے لیے، فوجی راستے میں ناکامی کے بعد، لبنان پر سیاسی، اقتصادی اور مالی دباؤ ڈال رہا ہے، جس کا مقصد پورے لبنان کو جھکانا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ مزاحمت جس سے شہید طباطبائی وابستہ تھے، اس نے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام کیا ہے، باوجود اس کے کہ ہم نے شدید تکلیف اور مشکلات برداشت کیں، ہم قائم ہیں۔ ہمارے عظیم شہداء کا راستہ ہمارے کندھوں پر امانت ہے، اور ہم سب پر لازم ہے کہ اس راستے کو جاری رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حسن عزالدین نے نہیں کرتا لبنان کی کے سینئر کرتا ہے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا